طالبان نے انسداد دہشت گردی  کے اہلکاروں کو کیسے یرغمال بنایا؟

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے دفتر میں طالبان قیدیوں کی جانب سے اپنے تفتیشی سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا واقعہ نا صرف حیران کن بلکہ ناقابل یقین بھی قرار دیا جا رہا ہے چونکہ پہلے پاکستانی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ دفاعی تجزیہ کار اس سے خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق 35 طالبان شدت پسندوں نے اپنے تفتیشی سی ٹی ڈی اہلکاروں کو یرغمال بنایا جن میں سے 25 سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے، سات نے ہتھیار ڈالے اور تین فرار کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔ یوں 35 میں سے 25 طالبان دہشت گرد مارے گئے جبکہ 10 گرفتار ہوئے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں نے جن تین سی ٹی ڈی اہلکاروں کو یرغمال بنایا تھا وہ بھی اس آپریشن میں شہید ہو گئے۔ یاد رہے کہ طالبان قیدیوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا کر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں افغانستان تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے اور فضائی سہولت بھی دی جائے۔ فوجی حکام نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے قیدیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تھا لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے چنانچہ ایس ایس جی کمانڈوز کے ایک دستے نے آپریشن کا آغاز کر دیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی بنوں کے دفتر میں دو کمرے حوالات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جہاں دیگر ملزمان کے ساتھ شدت پسندوں کو بھی تفتیش کے لیے لایا گیا تھا۔اتوار کے روز شدت پسندوں  میں سے ایک نے باتھ روم جانے کے بہانے ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر وہاں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا جس کی ایک بڑی وجہ اس دفتر میں عملے کی کمی بھی بتائی گئی ہے۔  اتوار کے روز اس دفتر میں آٹھ اہلکار موجود تھے جن میں کچھ سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں سے تفتیش کے لیے آئے تھے۔

بنوں میں انسداد دہشت گردی کے جس دفتر میں حملہ ہوا، یہ ریجنل ہیڈ کوارٹر ہے اور چھاؤنی میں کرائے کے مکان میں قائم کیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی اپنی عمارت زیر تعمیر ہے۔ صوبے میں کُل چار ریجنل ہیڈ کوارٹرز ہیں۔اس دفتر میں چھ کمرے ہیں اور ایک سرونٹ کوارٹر کے دو کمرے ہیں۔ یہ مکان کوئی ایک سے ڈیڑھ کنال کے رقبے پر واقع ہے۔ سرونٹ کوارٹر کے دو کمرے حوالات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جہاں ان ملزمان کو رکھا جاتا ہے جن سے پوچھ گچھ یا تفتیش کرنی مقصود ہوتی ہے۔ اس عمارت میں باقی کمرے دفتری امور کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بنیادی طور پر ان ملزمان کو بنوں کے منڈان کے علاقے میں سی ٹی ڈی انسداد دہشت گردی کے محکمے کے تھانے میں رکھا جاتا ہے لیکن جب ان ملزمان سے پوچھ گچھ یا کسی قسم کی تفتیش کی جاتی ہے تو انھیں یہاں چھاؤنی میں قائم دفتر میں لایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ تفتیش کے لیے لائے گئے ملزمان میں زیادہ تر تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ لوگ تھے جن میں ٹی ٹی پی کے ایک مقامی کمانڈر ضرار شامل تھے۔  اس دفتر میں اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد کمانڈر ضرار کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں وہ اس عمارت میں موجود ہیں اور اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے ہیں۔

شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران تشدد کے 700 سے زیادہ واقعات میں 300 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے لیکن اس شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے قائم انسداد دہشت گردی کے محکمے کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔قومی سلامتی کی ایک کمیٹی میٹنگ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کا بجٹ صوبہ پنجاب کے بجٹ کے نصف سے بھی کم ہے اور آپریشنل ڈیوٹیز پر بجٹ کا صرف چار فیصد ہی خرچ ہو پاتا ہے جبکہ 96 فیصد تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک سال میں تشدد کے متعدد واقعات ہوئے جبکہ اس محکمے کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں حالات انتہائی ابتر ہیں اور یہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم محکمے کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اہلکاروں کی تربیت کا کوئی پروگرام اس وقت موجود ہیں۔

پنجاب میں گذشتہ ایک سال میں دہشت گردی کے پانچ واقعات پیش آئے ہیں جن میں تین افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں تشدد کے 704 واقعات پیش آئے جن میں 305 افراد ہلاک اور 689 زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک سال میں 93 شدت پسند ہلاک ہوئے اور ان میں بیشتر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے اتنے واقعات اور گھمبیر صورت حال کے باوجود اہلکاروں کی تربیت اور اس سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ پروگرام نظر نہیں آ رہا۔ اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں اس محکمے کے اہلکاروں کی تعداد انتہائی کم ہے اور جو تعینات کیے گئے ہیں وہ ماضی کی لیویز یا خاصہ دار فورس سے لیے گئے ہیں جن کی اس بارے میں کوئی تربیت نہیں۔  اس محکمے کے بجٹ کو دیکھیں تو صوبہ پنجاب کے 4.7 ارب روپے کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کا بجٹ 2.18 ارب روپے ہے۔ خیبر پختونخوا کے بجٹ کا 96 فیصد تنخواہوں کے لیے مختص ہے اور دہشت گردی سے لڑنے کے لیے صرف چار فیصد بجٹ رکھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اہلکاروں کی کمی، ہتھیاروں اور سکیورٹی کے لیے دیگر ضروریات کی کمی بھی محکمے کو درپیش ہے جبکہ موجودہ اہلکاروں کی تربیت کے لیے بھی کوئی پروگرام نظر نہیں آ رہا۔ اسی طرح صوبہ پنجاب میں سائبر ٹیکنالوجی کی اعلیٰ سہولیات ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس اس طرح کی کوئی سہولت نہیں۔  اس سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے ایک افسر نے اپنے ضلع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضرورت کے لیے ضلع میں پانچ ڈی ایس پیز ہونے ضروری ہیں جبکہ ان کے پاس صرف ایک ڈی ایس پی ہے، اسی طرح انھیں پیٹرولنگ اور دیگر سرکاری کاموں کے لیے گاڑی استعمال کرنی ہوتی ہے جس کا پیٹرول اب ان کی برداشت سے باہر ہے جبکہ اس کے لیے فنڈز بھی جاری نہیں کیے جا رہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس حساب سے وہ اس موجودہ بجٹ میں مشکل سے گزارا کرتے ہیں۔

Back to top button