عمران جنرل باجوہ بارے پورا سچ بولنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ پر لگائے گئے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان یہ’سچ‘ بولتے ہیں کہ ان کے سارے اتحادیوں کو چھین کر پی ڈی ایم کی جھولی میں قمر باجوہ نے ڈالا تھا تو پھر وہ یہ سچ بھی تسلیم کریں کہ 2018 کے الیکشن میں ان تمام اتحادیوں کو خان صاحب کی گود میں بھی جنرل باجوہ نے ہی ڈالا تھا، ’سچ‘ پورا بولنا چاہئے کیونکہ آدھا سچ بولنا بھی بددیانتی کہلاتا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر کہتے ہیں کہ یہ بات زیادہ پرانی نہیں، پچھلے سال کی ہے جب سابق وزیر اعظم عمران خان اور چوہدری برادران کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ مسلم لیگ(ق) نے مرکز اور پنجاب میں حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا جس کا پہلا واضح اشارہ وہ ’ڈنر‘ تھا جو اسی رات دیا گیا جس رات عمران نے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ یہ چوہدری برادران کی جانب سے ایک واضح اعلان تھا جس سے پہلی بار کپتان کو لگا کہ صورتحال بگڑ رہی ہے۔ اب یہ وہ خود ہی بتا ئیں تو بہتر ہے کہ کس نے مداخلت کر کے چوہدریوں کو عمران خان کا ساتھ دینے سے روکا تھا اور یوں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت بچ گئی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس وقت عمران خان کے تیز رفتار بائونسرز کو سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ مسلسل ’ڈک‘ کررہے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ دونوں میں نہ کپتان کے پاس گدی ہے نہ باجوہ صاحب کے پاس ’چھڑی‘۔ انہیں دو سال بولنے پر بھی پابندی کا سامنا ہے مگر جو انٹرویو پرویز الٰہی نے عمران کے باجوہ مخالف حملوں کے بعد دیا، اسے جنرل باجوہ کی جانب سے جواب سمجھنا چاہیے۔
بات ہورہی تھی پچھلے سال کی جب چوہدری برادران اور عمران خان ایک دوسرے کی شکل دیکھنا برداشت نہیں کرتے تھے۔ اس ڈنر کے بعد عمران کو پرویزالٰہی اور مونس الٰہی پر خاصا غصہ تھا چنانچہ اچانک چوہدریوں کے خلاف نیب ریفرنس کے نوٹس جاری ہوگئے، اب یہ کپتان بتا سکتے ہیں کہ وہ ازخود جاری ہوئے، جنرل باجوہ نے جاری کروائے یا شہزاد اکبرنے۔ پھر یوں ہوا کہ مداخلت ہو گئی اور نیب کے نوٹس نہ صرف رک گئے بلکہ فائلیں ہی بند ہو گئیں۔ یوں پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو اورعمران خان کی ’دوستی‘ ہو گئی، وہ عمران خان جو چوہدریوں کے گھر جانا پسند نہیں کرتے تھے، وہ چوہدری شجاعت کی خیریت معلوم کرنے لاہور ان کے گھر پہنچ گئے، مونس جس کی شکل تک وزیر اعظم کو پسند نہیں تھی، انہیں وفاقی وزیر بھی بنا دیا گیا۔ اب پتا نہیں یہ کونسا NRO تھا، کس نے دیا تھا، کس نے دلوایا تھا مگر پنجاب اور بزدار بچ گئے۔ اچھا ہوتا اگر کپتان شریفوں اور زرداری کو دو این آرو لینے کا طعنہ مارتے وقت اس تیسرے این آر اور کا بھی ذکر کرتے جو موصوف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کو دیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ بظاہر ملک میں خاص طور پر لاہور میں ایک سیاسی سرکس لگا ہوا ہے، زمان پارک سے لے کر وزیر اعلیٰ ہائوس تک اور گورنر ہائوس سے لے کر ہائوس آف شریف اور زرداری تک ہر طرح کی خبریں گردش میں ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں سرکس کا کونسا تماشہ پیش کیا جاتا ہے۔ پرویز الٰہی کو مزید وقت دیا جارہا ہے یا وہ خود کچھ لے رہے ہیں۔ اس دوران عمران خان آج تک جنرل باجوہ کو نہ صرف اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں بلکہ نیب کو کنٹرول کرنے اور چیئرمین الیکشن کمیشن لگانے کی ذمہ داری بھی انہی کے سر ڈال رہے ہیں۔ کپتان ’امربالمعروف‘ کا اکثر ذکر کرتے پائے جاتے ہیں کہ سب کو ’حق‘ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے مگر یہ تو بتادیں کہ’حق‘ ہے کیا؟ کل جب نواز شریف جنرل باجوہ کو تمام برائیوں کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے تو عمران ان کا دفاع کرتے پائے گئے۔باجوہ صاحب چھ سال آرمی چیف بلاوجہ نہیں رہے، اس میں شریفوں اور کپتان کا برابر کا حصہ ہے۔ سب سے زیادہ مرتبہ انہیں نیوٹرل کا خطاب کپتان نے ہی دیا تھا۔ موصوف کی توپوں کا رخ اب سابق آرمی چیف کی طرف ہے، لیکن اگر چیئرمین نیب جاوید اقبال جنرل باجوہ کے اشارے پر چلتے تھے تو آخر ان کے اپنے خلاف وہ ویڈیو کس نے بنائی، کس نے چلائی اور پھر کس چینل پر چلی جس کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کیا جاتا رہا؟ مجھے تو بس اتنا پتا ہے کہ اس دوران جب میں نے نیب کے ایک سینئر افسر سے پوچھا تواس نے اعتراف کیا کہ اس ویڈیو کے چلنے کے بعد شریفوں، زرداری اور چوہدریوں کے مقدمات میں تیزی آگئی تھی۔ یہ پردہ بھی چاک ہونا ابھی باقی ہے۔
تیسری بات تین اتحادیوں کی ہے یعنی ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ(ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی، جنوبی پنجاب محاذ کا بھی اضافہ کرلیں۔ یہ سب’ امر بالمعروف‘ پر چل رہے تھے 2018 سے 2022 تک۔ اب یہ کپتان بتائیں کہ یہ سب ان کے حوالے کس نے کئے اور اگرحوالے نہ کیے جاتےیا خان صاحب ان کو قبول نہ کرتے توشاید 2018 کے الیکشن کے نتائج بھی مختلف ہوتے۔ مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان کی حکومت بھی قائم رہتی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ چوہدری برادران نے کبھی اپنی وابستگی اداروں سے نہیں توڑی۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم لیگ(ق) کاقیام اداروں کی ایک اور پیداوار مسلم لیگ (ن) اور خاص طور پر نواز شریف کی پارٹی پر گرفت کی وجہ سے ہوئی اور انہوں نے کبھی چوہدریوں کو دل سے قبول نہیں کیا۔ 1997 میں الیکشن سے قبل میاں صاحب نے یہ وعدہ کیا کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں ان کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی ہونگے مگر دوتہائی اکثریت ملنے پر وہ وعدے سے پھر گئے۔ بہرحال چوہدری ان کے ساتھ رہے اور شجاعت وزیر داخلہ اور پرویز الٰہی سپیکر بنے۔ 1999میں جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضہ کے بعد میاں صاحب2000 میں ڈیل کرکے سعودی عرب گئے تو پارٹی کا قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کو بنادیا، یوں چوہدریوں کیلئے میدان خالی چھوڑ دیا اور وہ مشرف کے ہو گئے۔ شجاعت کچھ عرصہ وزیر اعظم رہے پھر شوکت عزیز آگئے، بہرحال پہلی بار پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنے۔ 2008 میں سابق صدر آصف زرداری نے انہیں ڈپٹی وزیر اعظم تک بنا دیا جبکہ مونس الٰہی کو ایک مشکل کیس سے باہر نکالا جس کا اعتراف آج بھی پرویز الٰہی کرتے ہیں۔
آصف زرداری اور پرویز الٰہی کے درمیان پچھلے سال ایک ’گیم پلان‘ تیار ہوا تھا مگر یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے نہ صرف بزدار کو بچایا، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو بچایا بلکہ خود عمران خان کو بچایا۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ وہ جب یہ سب کررہے تھے تو آئین کی کس شق اور قانون کے تحت کررہے تھے، اگر عمران کا یہ’سچ‘ ہے کہ ان سارے اتحادیوں کو ان سے چھین کر PDM کی گود میں باجوہ صاحب نے ڈالا تو پھر یہ بھی تو ٹھیک ہے کہ 2018 میں ان کو کپتان کی گود میں بھی انہوں نے ہی ڈالا تھا، ’سچ‘ پورا بولنا چاہئے کیونکہ آدھا سچ بولنا بھی بد دیانتی کہلاتی ہے۔
