طالبان کی ناکامی سے پاکستانی معیشت کو کیا نقصان ہوگا؟

افغانستان میں پر امن انتقال اقتدار نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہونے اور سمگلنگ میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد اکثر ذہنوں یہ سوال ہے کہ مستحکم ہونے کی کوششوں میں مصروف پاکستانی معیشت پر یہ صورت حال کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔ معاشی امور کے ماہرین اور کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ابھی تک افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتحال نہیں ہوئی لیکن اگر کابل میں اقتدار کے معاملات طے نہیں پاتے اور خدانخواستہ افغانستان پھر کسی خانہ جنگی کا شکار ہوتا ہے اور مہاجرین پاکستان آتے ہیں تو یہ ہماری معیشت کے لیے بے پناہ نقصان دہ ہو گا۔ اس صورتحال میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی اشییا مزید مہنگی ہوں گی اور سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔
پاکستانی معیشت جس نے مالی سال 2020 میں منفی صفر اعشاریہ چار فیصد معاشی شرح نمو ریکارڈ کیا تھا وہ مالی سال 2021 میں چار فیصد تک بڑھ گئی اور موجودہ مالی سال کے لیے تقریباً پانچ فیصد کا گروتھ ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان اس وقت چھ ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط میں بندھا ہوا۔ اگرچہ پاکستان کو برآمدات اور ترسیلات زر کی صورت میں آنے والے ڈالروں کی وجہ سے کافی سہارا ملا ہے تاہم ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ درآمدات کی وجہ سے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری جو سٹاک مارکیٹ اور گورنمنٹ سکیورٹیز میں آتی ہے اس میں پچھلے کئی ہفتوں سے کافی کمی دکھائی دے رہی ہے۔ صرف جولائی کے مہینے کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئی جس کی وجہ افغانستان میں جون کے مہینے سے شروع ہونے والی طالبان کی پیش قدمی اور اس کے پورے خطے پر اثرات تھے۔
کابل پر طالبان کے قبضےکی اطلاعات آتے ہی پاکستانی معیشت کے ایک اہم اعشاریے سٹاک مارکیٹ نے منفی ردِعمل کا مظاہرہ کیا اور سٹاک مارکیٹ میں چار سو پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے پاکستانی بانڈز کی دھڑا دھڑ فروخت شروع ہو گئی جس کی وجہ سے ان کی پانچ، دس اور تیس سالہ بانڈز کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی مارکیٹ میں سرمائے کے حصول کے لیے جاری کیے گئے ان بانڈز کی سیکنڈری مارکیٹ میں خرید و فروخت ہوتی ہے تاہم کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے ان بانڈز میں عدم دلچسپی دکھائی جس کی وجہ سے ان کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
معاشی ماہرین نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں حالات بدل رہے ہیں اور اگر وہاں پر امن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے معاملات طے ہو جاتے ہیں تو ان بانڈز کی دوبارہ خریداری شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں تجارت اور سٹاک مارکیٹ کا بڑا نام عارف حبیب نے کہا کہ خدشات بہت زیادہ تھے لیکن پرامن طریقے سے کابل پر طالبان کے قبضے نے پاکستانی معیشت کو کسی بڑے دھچکے سے بچا لیا۔ اگرچہ سٹاک مارکیٹ نے ابتدائی طور پر منفی ردِعمل دکھایا تاہم پھر اس نے آہستہ آہستہ ریکور کرنا شروع کر دیا۔
خطے کی صورت حال کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے سوال پر معاشی ماور کے ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے بھی کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں آ رہی تھی اور جو تھوڑی بہت تھی وہ بھی چند ایک شعبوں تک محدود تھی۔افغانستان سے پاکستان کی باہمی تجارت کے بارے میں فرخ سلیم نے کہا کہ ‘اس کا حجم اتنا زیادہ نہیں ہے کہ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے ملک کے بیرونی تجارت کے شعبے کو بہت زیادہ اثر پڑے کیونکہ افغانستان جانے والی مصنوعات میں زیادہ تر چیزیں سمگل ہو کر وہاں پہنچتی ہیں۔’
ماہرین کے مطابق اگرچہ ابھی تک حالات نارمل دکھائی دیتے ہیں تاہم پاکستان کے لیے ایک چیز پریشان کن ثابت ہو سکتی ہے کہ افغانستان کی وجہ سے امریکہ کی پاکستان میں بھی دلچپسی تھی اور اس کی وجہ سے ڈالر آ رہے تھے تاہم اگر اب امریکہ کی دلچپسی ختم ہوتی ہے تو امریکہ اور اس کی اشارے پر چلنے والے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے آنے والےڈالر کا بہاؤ رک سکتا ہے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بتایا کہ ‘افغانستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے پاکستان سے سمگلنگ بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
