عالمی بینک نے افغانستان کیلئے امداد بند کر دی

افغانستان میں دو درجن سے زائد ترقیاتی منصوبے جاری ہونے کے باوجود عالمی بینک نے افغانستان کے لیے امداد بند کر دی ہے ، عالمی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ عالمی بینک افغانستان کو 5.3 ارب ڈالر دے چکا ہے جس میں زیادہ تر امداد شامل ہے۔

خیال رہے کہ افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے ملا عبدالقہار کو سینٹرل بینک ڈی افغانستان کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا ہےافغان میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے حاجی محمد ادریس کے نام سے معروف ملا عبدالقہار نے بطور سربراہ مرکزی بینک اپنی تقرری کے بعد میٹنگ کے دوران عملے کو کام پر واپس لوٹنے کی ہدایت بھی کی۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بیشتر بینک بند ہونے کے باعث پریشان افغان عوام کے لیے سینٹرل بینک کے سربراہ کی یہ تعیناتی اہم اور خوش آئند ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے چند ماہ پہلے ہی ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں یہ پریشان کُن تجزیہ پیش کیا تھا۔ طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان کی معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس کو ملنے والی مالی امداد مستقبل میں بھی ملتی رہے گی یا نہیں اس پر شک و شبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں امداد دینے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہی نہیں سکیورٹی خدشات اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی افغانستان کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جس کا سیدھا مطلب ہے کہ افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری بھی بہت کم ہے۔

Back to top button