عدت کیس میں بریت، عمران اور بشری کی رہائی ناممکن کیوں؟

عدلیہ کی جانب سے عمران خان کیلئے ٹھنڈی ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد اب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بھی عمران خان کو بڑا ریلیف دے دیا۔اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نےغیر شرعی نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی سزائیں کالعدم قرار دے کر ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے ۔ تاہم عمران خان کی سائفر اور توشہ خانہ کے بعد اب عدت میں نکاح کیس سے بری ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا عدت کیس کے فیصلے کے بعدعمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی ممکن ہو سکے گی؟

خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرلیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کیس سے بری کرنے کا حکم دیدیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیئے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی اگر کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہیں ہیں تو رہا کردیا جائے، عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے رہائی کے روبکار جاری کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ مختلف کیسز میں رہائی کے باوجود بانی چیئرمین پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ عدت میں نکاح کیس میں بریت سے قبل عمران خان سائفر کیس اور توشہ خانہ فوجداری کیس میں بھی بری ہو چکے ہیں جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بھی عمران خان ضمانت پر ہیں۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ان چار کیسز کے سوا ابھی تک کسی کیس میں گرفتاری نہیں ہے۔ جبکہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی عدت کیس کے علاوہ کسی کیس میں مطلوب نہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی رہائی ممکن ہے؟عمران خان عدت کیس میں بری ہونے کے بعد جیل سے باہر آئیں گے یا نہیں ؟

سینئر صحافی حامد میر کے مطابق عمران خان کو اتنی آسانی سے رہا نہیں کیا جائے گا، عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں کالعدم ہونے پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حکومت اتنی آسانی عمران خان کو رہا کر دے گی ،بظاہر تحریک انصاف کے رہنما یہی دعوے کر رہے ہیں آج عمران خان کی رہائی کا دن ہے ، لیکن ان کوا چھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان کی لڑائی شہبازشریف یا نوازشریف سے نہیں ہے بلکہ کسی اور کے ساتھ ہے۔ حامد میر کے مطابق تھوڑے دن پہلے انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عمران خان کے بارے میں جس قسم کے ریمارکس دیئے ہیں، نیب نے بھی توشہ خانہ کا ایک اور کیس کھول لیاہے ، اور بھی کچھ مقدمات پائپ لائن میں ہیں، اس طرح عمران خان کو ہر صورت اندر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

حامد میر کے بقول میں کل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد توقع کر رہا تھا کہ اب شائد پاکستان میں اداروں کی محاذ آرائی کم ہو جائے لیکن جو کل فیصلے کئے گئے ہیں اس میں مجھے یہی پتا چلا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت کے پاس عملدرآمد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ، تاہم بہت سے آزاد اراکین اسمبلی ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہمیں اپنی وفاداری تبدیل کرنے کیلئے دباو ڈالا جارہاہے کہ ہم کسی اور پارٹی میں جائیں یا پھر اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھیں لیکن ہم پاکستان تحریک انصاف کو جوائن نہ کریں۔ حامد میر کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جو عدالت نے حکم دیا ہے ، عمران خان کو عدت کیس میں بری کیا جاتاہے اور ان کو رہا کیا جائے ، لگتا یہی ہے کہ اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوگا، پوری کوشش کی جائے گی کہ عمران خان کو اندر ہی رکھا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی جائے گی ۔

بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے کیوں کہ اگر وہ آئے تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ٹف ٹائم دیں گے اور حکومت یہ افورڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف یہ کیسز ختم بھی ہو گئے تو بھی نئے کیسز بنا کر اُنہیں جیل میں ہی رکھا جائے گا۔ اگر  عمران خان کو عدالتی ریلیف مل بھی جاتا تو بھی عمران خان کو جیل میں رکھنے کے لیے مزید کیسز تیار ہیں۔

Back to top button