عمرانڈوز کی معافی کا مشن شیدے ٹلی کو کس نے سونپا؟

بیس اکتوبر کے روز اپنے پر اسرار’’چلّے‘‘ سے واپس آنے والے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے طے شدہ انٹرویو کے دوران یہ چونکا دینے والا بیان جاری کر دیا کہ عمران خان اور روپوش پی ٹی آئی رہنمائوں سمیت 9؍ مئی کے واقعات میں ملوث سبھی افراد کے حق میں عام معافی ملنی چاھیے ۔ ایک ماہ کی روپوشی کے بعد منظر عام پر آنے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی شیخ رشید احمد نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز سے مہم شروع کرنے جا رہے ہیں9؍ مئی کے واقعات میں ملوث افراد کیلئے عام معافی کے بیان کے حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی اتنی سیاسی اوقات نہیں کہ اس طرح کے انتہائی حساس معاملے پر وہ اپنے طور پر ہی ایسا اہم بیان جاری کر سکیں ، اگر یہ بیان اسٹیبلشمنٹ کی ایما سے جاری ہوا ہے تو ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں اس پیش رفت کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کیونکہ اگر ایسا ممکن ہوا تو اسے تحریک انصاف کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جاۓ گا ؟ دوسری طرف تحریک انصاف چھوڑ کر عمران خان پر الزام تراشیاں کرنے والے سابق صوبائی وزیر اور موجودہ ترجمان استحکامِ پاکستان پارٹی فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کا عام معافی کا مطالبہ حیران کن اور غیر منطقی ہے۔ انہوں نے عوامی مسلم لیگ کے بانی شیخ رشید احمد کی جانب سے گزشتہ دنوں دیے گئے انٹرویو پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔فیاض چوہان نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے الزام میں جیلوں میں بند بے گناہ افراد کو ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریکِ فساد فی الارض میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے. واضح رہے کہ اس حوالے سے انہوں نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا ہے کہ ’’میں ساری قوم کا، اپنی مائوں بہنوں بیٹیوں کا مشکور ہوں جن کی دعائوں سے کم و بیش چالیس روزہ چلے کے بعد مجھے رہائی نصیب ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے یہ چلہ کس جگہ پر کاٹا ہے لیکن مجھے چلے کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔ اب میری زندگی کا مشن اُن تمام لوگوں کو جو روپوش ہیں یا چھپے ہوئے ہیں یا جن سے 9؍ مئی کی غلطی سرزد ہوگئی ہے یا جو بے گناہ جیلوں میں ہیں؛ ان کو معافی دلانا ہے۔ ساری قوم اس پر امن مشن میں میرے ٹوئٹر پر میرا ساتھ دے۔ میں نے کبھی بھی اپنے ٹوئٹر کی اپیل نہیں کی لیکن آج میں پہلی مرتبہ اپیل کر رہا ہوں کہ 9؍ مئی کی غلطی جن لوگوں سے سرزد ہوئی ہے ان کی عام معافی کی اپیل کے مشن پر میرا ساتھ دیں۔ کل سے میں اس مشن کیلئے اپنی شروعات کا آغاز کر رہا ہوں۔ قوم کی دعائوں کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ کامیابی ہمارا مقدر بنے گی اور اللہ ہمیں مائوں بہنوں بیٹیوں کی دعائوں کے صدقے اس مشن میں ضرور سر خرو کرے گا۔‘‘ روزنامہ جنگ کی ایک روپرٹ کے مطابق اپنی ’’گمشدگی‘‘ کے بعد منظر عام پر آنے والے شیخ رشید کی جانب سے شروع کیے گئے اس نئے ’’مشن‘‘ کو کئی لوگ اس کی ٹائمنگ اور مقصد کی بنیاد پر دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ راول پنڈی کے اس سیاست دان نے اپنے ’’چلے‘‘ کا بندوبست کرنے والوں سے آزادی کے فوراً بعد اس مشن کا اعلان کیا ہے۔ شیخ رشید نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے عام معافی حاصل کریں جو 9؍ مئی کے واقعات میں ملوث ہیں یا اس کے بعد سے روپوش ہیں، یا پھر معصوم ہیں لیکن جیلوں میں۔ جمعہ کو شیخ رشید اپنی ’’گمشدگی‘‘ کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں ظاہر ہوئے جس میں انہوں نے کہا کہ 9؍ مئی کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ دن تھا۔ انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ 9؍ مئی کے فوراً بعد انہوں نے اس دن پیش آئے واقعات کی مذمت کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس عرصہ کے دوران تنہائی میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اُن غریب سیاسی کارکنوں کیلئے عام معافی کے حصول کیلئے جدوجہد کریں گے جو 9؍ مئی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے درخواست کریں گے کہ وہ ایسے تمام افراد کو معاف کر دیں جو 9؍ مئی کے واقعات میں ملوث ہیں یا پھر معصوم ہیں لیکن جیلوں میں قید ہیں۔ شیخ رشید کا یہ بیان بہت ہی اہم ہے کیونکہ یہ بیان انہوں نے اپنی ایک ماہ سے زائد عرصہ تک گمشدگی کے بعد منظر عام پر آنے کے فوراً بعد دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ وہ چلہ کاٹ رہے تھے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھی طاقتور حلقوں کی حراست میں تھے جیسا صداقت عباسی اور عثمان ڈار کی طرح دیگر سیاست دانوں کے ساتھ ہوا ہے جو حالیہ عرصہ کے دوران منظر عام پر آئے۔ ؟ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے درخواست کی تھی کہ فوج کے ساتھ بات چیت میں انہیں شامل کیا جائے، لیکن سابق وزیراعظم نے انکار کر دیا، (عمران خان) ضدی سیاست دان ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کو ناراض کرنا ان کی غلطی تھی۔ شیخ رشید لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پولیس کو وقت دیا گیا تھا کہ وہ 26؍ اکتوبر تک سینئر سیاست دان کو ریکور کرے۔ گزشتہ ماہ بظاہر ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔ شیخ رشید کو 17 ستمبر کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا اور اسی دن ان کے وکیل سردار عبدالرزاق نے اس بات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ انہیں چلہ کاٹتے ہوئے کئی باتوں پر غور کا موقع ملا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس عرصے کے دوران کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انٹرویو کے دوران، انہوں نے بار بار فوج کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا، ’’آج بھی، میں فوج کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میں نے پی ٹی آئی چیئرمین کو بھی مشورہ دیا کہ فوج کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاستدانوں اور اداروں کو مل کر کام کرنا چاہئے

Back to top button