عمران خان تمام ملکی مسائل کی وجہ خود کیوں ہیں؟

آج کل تقریبا ہر تقریر میں عمران خان کا یہ کہنا ہے کی کہ ملک کا معاشی استحکام تبھی ممکن ہے جب سیاسی استحکام ہو گا اور اس کے لیئے وہ فوری انتخابات کا حل تجویز کرتے ہیں۔ مگر پھر اگلی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی چور ڈاکو کی حکومت ماننے کی بجائے مرنا پسند کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے تو یہ بات تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اور انکی پارٹی کے علاوہ سب چور اور ڈاکو ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عمران خان کو صرف وہی جمہوریت اور الیکشن پسند ہیں جس میں وہ جیتیں اور حکومت بھی کرتے ہیں۔ جہاں تک عمران خان کی جانب سے ملک کے معاشی استحکام کی ضرورت پر زور دینے کی بات ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا عمران نے خود بھی کبھی سوچا ہے کہ اس کا ایک سادہ حل یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس جائیں اور ایک ذمہ دار اپوذیش کا رول ادا کریں، اگلے الیکشن تک۔ اس عمل سے یقینی طور پر ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت بھی بہتر ہو گی بقول انکے اپنے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا خان صاحب اپنے ملک کے لیے یہ بھی نہیں کر سکتے؟ آج قوم ان سے یہ سوال کرتی ہے کہ کیا آپکی Ego اس ملک کے لیے اتنی سی قربانی نہیں دے سکتی جس سے آپ اتنے عشق کا اظہار کرتے ہیں۔ خان صاحب کے لیے سمجھنا ضروری ہے کہ مسلئے کا حل انکے اپنے پاس ہے خصوصا اگر وہ آئین اور قانون اور جمہوری روایات کو مانتے ہیں۔ قوم عمران خان کے جواب کی منتظر رہے گی۔
