عمران خان نے قوم کو رلانے کا وعدہ کیسے پورا کیا؟

2018 میں اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی سے مسند اقتدار پر بٹھائے جانے والے وزیراعظم عمران خان نے پچھلے ساڑھے تین برس میں یہ ریکارڈ قائم ہے کہ انہوں نے عوام سے کیا گیا کوئی ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا، ماسوائے ایک وعدے کے، جو وہ نہیں بھولے، اور وہ ہے قوم کو رلانے کا وعدہ۔ یاد رہے کہ یہ وعدہ عمران خان اسلام آباد کے ڈی چوک میں دیے گے دھرنے کے دوران کنٹینر پر چڑھ کر بار بار کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر مجھے اقتدار مل گیا تو تمہیں رلاؤں گا۔ لہذا آج پوری پاکستانی قوم روتی نظر آتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت ایوان میں اس طرح داخل ہوئی جیسے کوئی ہاتھی گنے کے کھیت میں داخل ہوتا ہے، ہر چیز کو روندتا ہے اور پھر اپنی راہ لے لیتا ہے۔ فصل اگانے والے تاسف سے ہاتھ ملتے رہتے ہیں مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ اس حکومت پر بھائی لوگوں کی عجب مہربانیاں ہیں۔ خان نے قانون کا دھڑن تختہ کر دیا، اپوزیشن کا بینڈ بجا دیا اور الیکشن کمیشن کا بھرکس نکال دیا۔ ون پیج خود اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا، میڈیا کو تماشا بنا دیا۔ اخلاقیات کا دھڑن تختہ کر دیا اور سماجیات کو طعنہ بنا دیا۔ سیاسیات کے ہر قاعدے کا جنازہ نکال دیا، آزادی اظہار کا کچومر نکال دیا اور خارجہ کی سطح پر بدنامی مول لی۔ لیکن پھر بھی حکومت چل رہی ہے اور دھڑلے سے چل رہی ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
بقول عمار مسعود، ہم ہر شعبے میں ایک مسلسل تنزلی کا شکار ہیں مگر اس کا نہ اقرار ہو رہا ہے نہ ہی اس کے سدباب کی طرف کسی کی توجہ جا رہی ہے۔ عمران خان کا ریکارڈ ہے کہ وہ آج تک قوم سے کیے اپنے کسی وعدے پر قائم نہیں رہے۔ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا کہا مگر گئے۔ گورنر ہاؤس کو مسمار کیا نہ وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی بنا، نہ نوکریوں کے انبار لگے، نہ لوگوں کو مفت مکانات ملے نہ اس ملک سے بھوک ختم ہوئی نہ افلاس میں کوئی کمی آئی، نہ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں کو روانہ ہوئے نہ حاملہ خواتین کو بہتر سرکاری خوراک ملی۔ نہ 350 ڈیم بنے نہ ایک ارب درخت لگے، نہ ٹورازم کو فروغ ملا نہ پاکستان کے سبز پاسپورٹ والوں کی توقیر ہوئی نہ بیرون ملک والے نوکریاں چھوڑ چھوڑ کر پاکستان آئے، نہ میڈیا کو آزادی نصیب ہوئی نہ پی ٹی وی بی بی سی بنا۔ نہ بجلی اور گیس کے بلوں کی قیمت میں کمی آئی، نہ مہنگائی کا طوفان رکا، نہ کسی وزیر کبیر نے دو سو ارب روپے آئی ایم ایف کے منہ پر مارے، نہ اقربا پروری کی روایت ختم ہوئی اور نہ ہی پولیس میں سے سیاست ختم ہوئی۔
عمار مسعود کہتے ہیں کی ان میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں جس پر عمران خان قائم رہے۔ صرف ایک وعدہ پورا کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’میں انہیں رلاؤں گا‘، آج حکومت کی جان کو 22 کروڑ رو رہے ہیں۔  ٹی وی پر سرکاری ترجمانوں کے بیانات سن کر یوں لگتا ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے سستا ملک ہے جہاں ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جہاں غربت افلاس نام کی کسی شے کا وجود ہی نہیں، جہاں لوگ ایک دن میں کئی کئی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جہاں موٹرسائیکل ریوڑیوں کی طرح بک رہے ہیں۔ جہاں اتنی ترقی ہو رہی ہے کہ ابھی تک گروتھ ریٹ کا شمار نہیں ہو سکا۔ مہنگائی نام کی کسی شے کا اس ریاست مدینہ میں تو تصور ہی نہیں۔
بقول عمار مسعود، خارجہ کی سطح پر ہم نے امریکہ کا ٹیٹنوا دبا کر رکھا ہوا ہے، چین ہمارے وزیراعظم کی اخلاقی قوت کے سامنے بے بس ہے۔ روس ہاتھ جوڑے کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ عمران خان کے خطابات عالیہ سے مستفید ہونے کی جلدی میں ہے۔ ان افکار عالیہ کو سن کر آپ بازار جائیں تو صورت حال اتنی خوش کن نہیں رہتی۔ عوام کی ایک بڑی تعداد جھولیاں اٹھا اٹھا کر اس حکومت کو بدعائیں دے رہی ہے۔ کسی کی نوکری نہیں رہی تو کسی کا کاروبار ’تبدیلی‘ کی نذر ہو گیا۔ کسی کے بچے فیس نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہ جا سکے، کوئی قرض کے بوجھ  تلے دب گیا۔ کسی کی بیمار ماں کو دوا نہیں مل سکی، کسی نے افلاس سے تنگ آ کر خود کشی کر لی، کسی نے بھوک سے تنگ بچوں کو نہر میں پھینک دیا۔ ان لوگوں سے ملیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ لوگ نہیں جن کا ذکر ابھی ٹی وی پر سرکاری ترجمان کر رہے تھے۔ شاید وہ کسی اور ملک کا ذکر تھا، شاید وہ کسی اور ملک کے باسی تھے۔
عمار مسعود کا کہنا یے کہ عام آدمی جس مشکل سے گزر رہا ہے اس کا رتی بھر اندازہ نہ حکومت کے ترجمانوں کو ہے نہ ہی اس کا ادراک سرکاری تجزیہ کاروں کو ہے۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ اب سب نہ صرف رو رہے ہیں بلکہ اس گھڑی کو کوس رہے ہیں جب یہ حکومت ایجاد ہوئی تھی۔  ان حالات میں یہ اسی حکومت کا ’دھن جگرا‘ ہے کہ منی بجٹ بھی کے آئی یے تاکہ مہنگائی سے کچلے ہوئے روام کا مکمل بھرکس نکالا جا سکے۔ اور یاد رکھیئے کہ ایسا کرتے ہوئے حکمرانوں کو رتی بھر بھی شرم نہیں آرہی۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس دور میں جب پورا ملک اس حکومت کو کوس رہا ہے، رو پیٹ رہا ہے تو کچھ ایسے بھی ہیں جو ابھی تک حکومت کی کارکردگی کو عبرتناک کہنے کو تیار نہیں۔ آپ بھی اگر ان میں سے ہیں اور آپ کو یہ دلدوز داستان فسانہ لگ رہی ہے تو میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ کسی ایک انتخابی معرکے میں تحریک انصاف کا ٹکٹ لے کر ایک دفعہ بس ایک دفعہ، عوام سے تحریک انصاف اور عمران خان کے نام  ووٹ مانگنے ضرور جائیں۔ آپ کو سرکاری ترجمانوں کے بیانات کی حقیقت فوراً معلوم ہو جائے گی۔

Back to top button