عمران خان کواڈیالہ کی بجائے اٹک جیل کیوں منتقل کیا گیا؟

توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف کو زمان پارک سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف کو چٸیرمین پی ٹی آٸی کو براستہ موٹروے لاہور سے اسلام آباد سخت سیکیورٹی میں منتقل کیا گیا۔پولیس ٹیم انہیں اڈیالہ روڈ سے پمز اسپتال لے کر پہنچی جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کیا۔ میڈیکل کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جانا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں اٹک جیل منتقل کر کے ہائی سیکورٹی زون کے لاک اپ میں رکھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد لاہور سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا کیا جانا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیاتھا بعد ازاں موسم کی خرابی کی وجہ سے اس فیصلے کو تبدیل عمران خان کو جہاز کی بجائے براستہ موٹروےاسلام آبادمنتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس صورت حال میں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ عمران خان کو لاہور سے گرفتار کیا ہے تو انہیں لاہور کی کیمپ جیل یا کوٹ لکھپت جیل میں کیوں نہیں رکھا جاتا؟ اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا کیس اسلام آباد کی عدالت میں تھا، اس لیے ان کو گرفتار کر کے قریب ترین اڈیالہ جیل میں منتقل کرنا قانونی تقاضا ہے۔ بعدازاں جیل انتظامیہ انہیں اپنی مرضی سے یا پھر عمران خان کی درخواست پر عدالت انہیں ان کی مرضی کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
ایڈووکیٹ امجد سرفراز کے مطابق عدالتی نظام کے مطابق جب جج نے سزا سنائی تو اس وقت ملزم کا عدالت میں موجود ہونا لازمی تھا، لیکن عدالت کے بلانے کے باوجود اگر وہ نہیں آئے تو عدالت کی صوابدید تھی کہ وہ کیس ملتوی کر کے ملزم کو پیش ہونے کا موقع دیتی یا اس کی غیرموجودگی میں سزا سناتی۔’عدالت نے دوسرے آپشن پر عمل کیا اس لیے سزا سنائے جانے کے بعد عدالت جس صوبے یا ضلع میں موجود ہو اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرائے۔‘ایڈووکیٹ امجد سرفراز کے مطابق عدالتی فیصلے میں اسلام آباد پولیس کو گرفتاری کا حکم دیا گیا تھا اس لیے انہوں نے گرفتار کرنا تھا۔ قانون کے مطاںق اسلام آباد پولیس اگر کسی مجرم کو گرفتار کرتی ہے تو وہ اسے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی پابند ہے۔
قانونی ماہر شعیب گجر کے مطابق عمران خان اڈیالہ جیل کے بجائے کسی اور جیل میں سزا پوری کرنا چاہیں یا ضمانت ہونے تک کسی اور جیل میں رہنا چاہیں تو وہ متعلقہ عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی قریب میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو ان کی عدالت میں عدم موجودگی میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی۔ جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز لاہور ایئرپورٹ پر اترے تھے اور انہیں وہاں سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ وہ دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت تک اڈیالہ میں قید رہے تھے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنائی تو وہ اس وقت عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے اسی وقت عدالت سے استدعا کی تھی کہ انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے تو عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں لاہور بھیج دیا تھا۔
دوسری جانب عمران خان کی گرفتاری پر جہاں سوشل میڈیا صارفین اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف صحافی اور تجزیہ کار بھی عمران خان کی گرفتاری پر رائے دے رہے ہیں۔
تجزیہ کار حامد میر نے ٹویٹ کیا کہ ’ایک اور سابق وزیراعظم کو سزا سنا دی گئی۔ آج تک کسی ڈکٹیٹر کو سزا نہیں ملی کیونکہ وزیراعظم جب حکومت میں ہوتا ہے تو ڈکٹیٹروں کے خلاف فیصلے سنانے والے ججوں کو پاگل قرار دے دیتا ہے۔‘
سماجی کارکن جبران ناصر کی رائے میں ان کی سزا اعلیٰ عدالت کی جانب سے معطل ہو سکتی مگر اس سے قبل انھیں پی ٹی آئی کی سربراہی سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ پارٹی کو کنٹرول نہ کر سکیں۔‘
صحافی عاصمہ شیزازی کہتی ہیں کہ ’آج ایک اور وزیراعظم جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔ ہم دائروں میں سفر کرتے رہے ہیں اور رہیں گے۔۔۔‘’دائرے کب منزل پہ پہنچنے دیتے ہیں۔‘
