عمران خان کی آفیشل بے عزتی کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

سربیا میں پاکستانی سفارت خانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کیے جانے کے بعد کسی دل جلے نے وزیراعظم پاکستان اور انکی ناکام حکومت کی کلاس لے ڈالی جسے سوشل میڈیا پر عمران خان کی آفیشل بے عزتی قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سربیا میں سفارت خانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرنے والے کا تعلق سفارتی عملے سے ہے کیونکہ ہیکر نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام ڈالا ہے کہ عملے کو پچھلے تین ماہ سے انکی تنخواہیں نہیں ملیں۔ ان ٹویٹس کے بعد اب پاکستان میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ سربیا ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے سربیا میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مہنگائی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں سفارت خانے کا کوئی شخص ملوث نہیں، دراصل سفارتخانے کے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے ہیں اور ان اکاؤنٹس سے پوسٹ کیے گئے وزیراعظم مخالف پیغامات سفارتخانے کے نہیں ہیں۔ اس واردات کی تفصیل کے مطابق 3 دسمبر کی صبح جب لوگوں نے سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا رخ کیا تو وہاں ایک دلچسپ پیغام موجود تھا جسکے الفاظ کچھ یوں تھے: ‘عمران خان میں معذرت خواہ ہوں، میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘ ایک اور ٹویٹ میں عمران خان کی حکومت سے خاصے گلے شکوے کیے گئے تھے اور ’آپ نے گھبرانا نہیں‘ کہ عنوان سے ایک گانا بھی شیئر کیا گیا جس میں عمران خان کی لمبی چوڑی کلاس لی گئی ہے۔ عمران سے گلے شکووں سے بھرپور اس ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’مہنگائی سارے گذشتہ ریکارڈ توڑ رہی ہے اور عمران خان، آپ کیا امید رکھتے ہیں کہ ہم سرکاری ملازمین کب تک خاموش رہیں گے۔ کیا ہم تین ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کے باوجود بھی کام کرتے رہیں گے، ہمارے بچے فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکولوں سے نکالے جارہے ہیں۔ کیا یہ نیا پاکستان ہے۔‘ بس یہ ہی وہ ٹویٹس تھیں جن کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ سربیا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور بہت سے لوگ سربیا میں پاکستان کے سفارتخانے کے بارے میں بات کرتے نظر آئے۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ اس واقعہ میں سفارت خانے کا کوئی اہلکار ملوث نہیں۔ دفتر خارجہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہیک ہونے والے اکاؤنٹس کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے پیغامات سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے نہیں ہیں۔‘ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے خاتون صحافی بے نظیر شاہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’سربیا میں پاکستان کے سفارتخانے کے حکام نے اس ٹویٹ پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سرکاری مؤقف کے لیے مجھے دفتر خارجہ سے رابطہ کرنے کا کہا ہے۔‘ اپنی اگلی ہی ٹویٹ میں بے نظیر شاہ نے لکھا: ’میں نے ابھی سربیا میں پاکستانی سفیر شہزاد اکبر سے بات کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ سفارتحانے کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گئے ہیں۔‘ بے نظیر کے مطابق انھیں بتایا گیا ہے کہ سربیا کے سفارت خانے میں کام کرنے والے پاکستانی عملے کو تمام تنخواہیں جلد ادا کر دی جائیں گی۔
پاکستان میں ٹوئٹر پر اس وقت بھی ہیش ٹیگ سربیا ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔ ہیزل خان نامی صارف جو پاکستان کی موجودہ حکومت سے خوش نظر نہیں آتیں، نے لکھا: ’سربیا میں پاکستان کے سفارتخانے نے جو ٹویٹ کی وہ اصلی ہے۔ ہم خود اس حکومت سے تنگ ہیں بھئی۔‘
صحافی کامران یوسف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’اگر اکاؤنٹ ہیک بھی ہو گیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ دفتر خارجہ اور دوسرے حکومتی عہدیدار اس ٹویٹ میں کہی گئی باتوں سے انکار نہیں کریں گے۔‘۔تاہم کچھ صارف ایسے بھی تھے جنھوں نے سوشل میڈیا صارفین کو احتیاط کا مشورہ دیا۔ انعم شیخ نے لکھا: ’سربیا میں پاکستان کے سفارتخانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہو گیا۔ ٹوئٹر اکاؤنٹ اب محفوظ نہیں رہے۔ احتیتاط برتیں۔‘
ادھر سرحد پار پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا میں صارفین کو تو جیسے پاکستان سے متعلق اپنی بھڑاس نکالنے کا ایک موقع مل گیا ہو۔ انڈین صحافی پنکی راج پھروہت نے لکھا: ’یہ پاکستان کی آفیشل بے عزتی ہے۔ پاکستان کے سربیا میں اپنے سفارتخانے نے بہت برے طریقے سے اپنے وزیر اعظم کو ٹرول کیا۔ یہ ٹویٹ یہ دکھانے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان اس وقت بہت بری حالت میں ہے۔‘ انڈیا سے ہی ایک اور صارف نے لکھا: ’ ایک سفارتخانہ بیرون ملک سے کھلے عام اپنی حکومت کو چیلنج کر رہا ہے۔ پاکستان بہت بڑی مصیبت میں ہے۔‘
کچھ صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سربیا میں پاکستان کا سفارتخانہ بھی موجود ہے۔
