عمران مخالف تحریک میں نفرت کا عنصر شامل ہونے کی دیر ہے….


وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے چلائی گئی حکومت مخالف تحریک ابھی تک اس لیے کامیاب نہیں یو پائی کہ اس میں حکمران کے خلاف نفرت کا عنصر ابھی تک نمایاں نظر نہیں ہو پایا جیسا کہ ماضی کی حکومت مخالف تحریکوں میں ہوتا رہا ہے۔
اِسے خان صاحب کی خوش قسمتی سمجھیں یا پی ڈی ایم کی بدقسمتی کہ اپوزیشن کی تحریک اسمبلی سے نکل کر گلیوں، بازاروں اور میدانوں میں تو آ گئی مگر اس کا رنگ اسمبلی کے فلور والا ہی رہا۔عمران خان کے خلاف مہم میں مخالفت موجود تھی مگر نفرت موجود نہیں تھی۔ بدقسمتی سے احتجاجی تحریک تبھی چلتی ہے جب اس میں نفرت کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہو۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تجزیے میں کیا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کے قومی اتحاد نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو اس میں نفرت اور غصہ نمایاں تھا۔ لیکن اسے خان صاحب کی خوش قسمتی پر ہی محمول کرنا چاہئے کہ پی ڈی ایم کی قیادت عمران خان کے خلاف اپنی تحریک میں نفرت کا زہر گھولنے میں ناکام رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھٹو کے خلاف تحریک کو مذہبی رنگ دیا گیا اور عوام کو اسلام کے نام پر انکے خلاف اکسایا گیا۔ یوں اصغر خان کی جانب سے بھٹو کو سرعام کوہالہ کے پل پر پھانسی چڑھانے جیسی باتیں کر کے ان کے خلاف عوامی نفرت کو بڑھایا گیا۔ لیکن یہ اور بات کہ ضیا کے ہاتھوں بھٹو کی پھانسی کو تاریخ نے جوڈیشل ریمانڈ قرار دیا اور انہیں شہادت کے درجے پر فائز کیا ہالا کے قومی اتحاد نے بھٹو مخالف تحریک کا نام تحریک نظام مصطفی رکھا تھا۔
اسی طرح عمران خان کی جانب سے نواز شریف کے حکومت کے خلاف مہم میں پہلے تو بار بار انہیں کو کرپٹ کہا گیا، جھوٹے سچے اعداد و شمار پیش کر کے انہیں پانامہ سکینڈل سے جوڑا گیا اور کہا گیا کہ نواز شریف عوام کا پیسہ لوٹ کر کھا گیا ہے۔ پھر ڈان لیکس جیسے ملک دشمنی پر مبنی الزامات لگائے گے اور اس کے بعد تحریک لبیک کے ذریعے مذہبی الزامات لگا کر اس نفرت کو اور بھی بڑھاوا دیا گیا۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں حکومتوں کے خلاف تحریک صرف سیاسی مخالفت کی بناء پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بھٹو اور نواز شریف دونوں کے خلاف سیاسی اور مذہبی کارڈ استعمال کر کے انہیں نفرت کا ہدف بنایا گیا‘ عوامی جذبات کو اس حد تک بھڑکایا گیا کہ تحریک انصاف کے کچھ جذباتی حامی لندن میں نواز شریف کے گھر پارک لین پر حملہ آور ہو گئے۔ اس سے پہلے عمران خان کے دھرنے کے خاتمے پر پی ٹی وی اور پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے واقعات بھی رونما ہو چکے تھے۔
یہ بالکل اسی طرح کی نفرت تھی جو اب ٹرمپ کے حامیوں کی پُر تشدد کارروائیوں میں نظر آ ئی ہے۔ لیکن عمران خان کے خلاف اب تک جتنی بھی تحریک چلی ہے اس میں وہ نفرت نظر نہیں آئی۔ کپتان سرکار کی۔کرپشن کی داستانوں تو بہت ہیں لیکن انکے اپنے خلاف کرپشن کا کوئی بڑا سکینڈل طشت ازبام نہیں ہو سکا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق جمہوریت کو اگر شائستہ کھیل کی طرح کھیلا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا اختلاف رائے پارلیمان کے اندر رکھنا چاہئے۔ اگر اختلاف رائے سڑکوں اور بازاروں میں آ جائے اور پھر اسے نفرت کا تڑکا بھی لگ جائے تو تشدد کی لہر ابھرنا شروع ہو جاتی ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی احتجاجی تحریک میں نفرت در آئے وہاں تشدد کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔چاہے وہ 1977ء کی قومی اتحاد کی تحریک ہو، 2014 میں تحریک انصاف کا پی ٹی وی پر حملہ ہو یا گزشتہ روز صدر ٹرمپ کے حامیوں کا کیپٹل ہل پر گھیرائو جلائو ہو۔
جمہوری سیاست کا اصول ہے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں اختلاف رائے تو رکھیں گی مگر مذہبی فرقوں، انتہاء پسندوں، فاشسٹوں اور متشدد گروہوں کی طرح ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کے خلاف تحریک کامیابی تب ہوتی ہے جب اسے نفرت کا تڑکا لگ جائے۔
امریکا میں صدر ٹرمپ کے حامی جس حد تک چلے گئے ہیں وہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ نفرت پر مبنی راستہ ہے یہی وجہ ہے کہ کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی اور ہلڑ بازی کو امریکا کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا گیا، طے شدہ اصولوں کے مطابق لیڈر دباؤ سے نہیں بلکہ دلیل سے لوگوں کو قائل کرتا ہے، وہ خوف و تحریص نہیں بلکہ اپنے بیانیے سے دلوں کو مسخر کرتا ہے۔
آمریت، فاشزم اور زور زبردستی کی حکومت کے خلاف جدوجہد کا مطلب زندگی یا موت ہوتا ہے جبکہ جمہوریت ایک شائستہ کھیل ہے جس میں فتح اور شکست کھیل کا حصہ ہے۔
فاتح کھلاڑی، ہارے ہوئے کو ساتھ لے کر چلتا ہے‘ اس کی عزت کرتا ہے اور ہارا ہوا کھلاڑی جیتنے والے کو خود مبارکباد دیتا ہے لیکن نفرت کی سیاست کرنے والا ٹرمپ یہ تاریخ بھی بدلنے جا رہا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت اگر معمول کے مطابق چلے تو سیاسی جماعتوں کے اختلاف کا اظہار اسمبلی کے فلور پر ہوتا ہے، معاشی پالیسی اور خارجہ پالیسی پر مباحث ہوتے ہیں اور ایوان کے اندر دلائل سے ایک دوسرے کی گوشمالی کی جاتی ہے تاہم جب اسمبلیوں میں ڈائیلاگ ناکام ہو جائے، مخالفت، مفاہمت میں نہ بدلے ایوان اور اسمبلی کی ورکنگ کام نہ کرے تو پھر معاملات اسمبلی کے فلور تک محدود نہیں رہتے بلکہ اختلاف، نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور معاملات سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں طے ہوتے ہیں۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل پائی اور حکومت مخالف تحریک شروع ہوئی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور انہیں اپنا ہدف حاصل کرنے میں فوری کامیابی نہیں مل پائی کیونکہ نہ تو وہ حکومت کو گرا سکے، نہ اجتماعی استعفے دے سکے اور نہ سینیٹ کا الیکشن رکوا سکے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ ہو سکتا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا دوسرا مرحلہ اس سے بھی زیادہ خوفناک اورخطرناک ہو۔ قومی اتحاد کی تحریک بھی پہلے مرحلے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی کئی مرحلوں کے بعد اسے کامیابی ملی تھی، عمران خان بھی 126دن کے دھرنے کے باوجود حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے بلکہ مایوس و نامراد ہو کر گھر لوٹے تھے۔ مگر وہ پھر سے اٹھتے اور نیا مرحلہ شروع کرتے رہے، اور ظاہر ہے کہ پی ڈی ایم بھی ایسا ہی کرے گی۔ وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت میں سے آدھی مکمل ہونے کو ہے‘ ان کا اڑھائی سالہ دورِ عروج گزر گیا اب اڑھائی سالہ دورِ زوال آ رہا ہے، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپوزیشن کو پارلیمان کے اندر کی سیاست میں لائیں اور ان سے مذاکرات شروع کریں۔ بصورت دیگر اگر اپوزیشن اتحاد نے اپنی حکومت مخالف تحریک جاری رکھی اور اس میں نفرت کا رنگ بھی نمایاں ہونے لگا تو پھر عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہو کر رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button