حکومتی اتحادی جماعتیں 28ویں آئینی ترمیم پر اتنی خاموش کیوں؟

ملکی سیاست میں ایک بار پھر آئینی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، مگر اس بار صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور پراسرار دکھائی دیتی ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم کی ممکنہ آمد نے سیاسی حلقوں، حکومتی ایوانوں اور اپوزیشن جماعتوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، لیکن حیران کن طور پر حکومت اور اس کے اتحادی کھل کر اس معاملے پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایک طرف سیاسی رہنما اور تجزیہ کار یہ دعوے کر رہے ہیں کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اور بڑی آئینی تبدیلی کسی بھی وقت سامنے آ سکتی ہے، تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما مسلسل لاعلمی یا خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد اس پورے معاملے کو مزید دلچسپ اور سیاسی طور پر حساس بنا رہا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا واقعی 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی نئی تقسیم، این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلیاں یا 18ویں ترمیم کے بعض پہلوؤں پر نظرثانی زیر غور ہے؟ یا پھر یہ سب محض سیاسی افواہیں اور دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے؟ آنے والے دنوں میں یہی بحث ملکی سیاست کا بڑا محور بن سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی بحث نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ حکومت اور اتحادی جماعتیں اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم سیاسی حلقوں میں آئینی تبدیلیوں سے متعلق افواہیں اور قیاس آرائیاں مسلسل زور پکڑ رہی ہیں۔یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سینیئر سیاستدان فیصل واڈا نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے، اس لیے 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری حکومت کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگی۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف امکانات پر گفتگو شروع ہو گئی۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ بجٹ سے قبل ایک نئی آئینی ترمیم لائی جا سکتی ہے، جس میں قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی ایوارڈ، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بعض انتظامی اصلاحات شامل ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض تجاویز میں یہ بھی زیر غور آیا کہ صوبائی حکومتوں کے اختیارات کو مزید ضلعی اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ مقامی حکومتوں کو زیادہ فعال بنایا جا سکے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق بھی سیاسی اور حکومتی حلقوں میں بات چیت جاری رہی۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں شامل بڑی جماعتیں اس معاملے پر واضح مؤقف دینے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے واضح کیا کہ انہیں آئینی ترمیم سے متعلق اطلاعات صرف میڈیا کے ذریعے ملی ہیں اور انہیں کسی سطح پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی کور کمیٹی یا کسی بھی داخلی فورم پر 28ویں آئینی ترمیم زیر بحث نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی کسی ترمیم پر کام کر رہی ہے تو اتحادی جماعتوں کو اس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے بھی بجٹ سے قبل کسی نئی آئینی ترمیم کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا واضح مؤقف ہے کہ اتحادی جماعتوں کی مکمل رضامندی کے بغیر کوئی بڑا آئینی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم جیسے حساس معاملات پر مکمل سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے، اسی لیے آئندہ چند ہفتوں میں کسی بڑی پیشرفت کا امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ ضرور دیا کہ مستقبل میں اگر اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو گیا تو 28ویں آئینی ترمیم سامنے آ سکتی ہے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا کہ بجٹ سے پہلے کوئی آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پارلیمانی امور اور بجٹ تیاریوں پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ کسی باضابطہ آئینی ترمیم پر کام نہیں ہو رہا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کی محتاط خاموشی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ آئینی اصلاحات سے متعلق پسِ پردہ مشاورت جاری ہے، مگر حتمی اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث معاملات ابھی خفیہ رکھے جا رہے ہیں۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں 28ویں آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو اس کا مرکز اختیارات کی تقسیم، مالیاتی ڈھانچے کی تبدیلی اور مقامی حکومتوں کو مزید بااختیار بنانے جیسے نکات ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس قسم کی کسی بھی ترمیم کے لیے نہ صرف پارلیمانی اکثریت بلکہ وسیع سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہوگا۔اس وقت مجموعی صورتحال یہی ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر سامنے آنے کا امکان کم ہے، لیکن اس پر سیاسی بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
