عمران نے جہانگیر ترین کو PTI سے بھی مکمل طور پر فارغ کر دیا

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سابقہ دست راست اور ماضی میں کپتان کی ATM کہلانے والے جہانگیر خان ترین کو مکمل طور پر فارغ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کا تحریک انصاف سے کسی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے ایسی افواہیں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں کہ شاید جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ڈیل کرنے کے بعد لندن سے پاکستان واپس آئے ہیں اور ان کے آپسی معاملات ٹھیک ہو چکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے انٹرویو میں اینکر منصور علی خان نے عمران خان سے جہانگیر ترین کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر ان کا کوئی عہدہ نہیں ہے اور اب پی ٹی آئی سے بھی ان کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔شوگر سکینڈل میں جہانگیر ترین کے خلاف انکوائری کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اداروں کے اندر کسی قسم کی مداخلت نہیں کروں گا، جو بھی ملوث ہو گا اسے سزا ملے گی۔‘ جہانگیر ترین پر الزامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انھیں یہ الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو خیر شوگر کیس چل رہا ہے لیکن مجھے افسوس ہوتا ہے کیوں کہ جہانگیر میرے بہت قریب تھے اور وی اب بھی کہتے ہیں کہ میں بالکل بے قصور ہوں۔ جہانگیر نے ہمارے ساتھ بہت کام کیا ہے اور وہ اب بہت مشکل میں ہیں۔’ وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی انہیں کرپشن کی کوئی اطلاع ملتی ہے اپنی پارٹی کے اراکین اور وزرا کے حوالے سے تو وہ آئی بی سے تحقیقات کرواتے ہیں اور رپورٹ لیتے ہیں۔ تاہم وزیراعظم نے اب تک ایسی رپورٹس کی بنیاد پر جن پارٹی اراکین کے خلاف کارروائی کی ہے ان کے نام لینے سے گریز کیا۔
جب عمران خان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی فوج کے سامنے مزاحمت دکھائی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کو میں مزاحمت تب دکھاؤں اگر فوج مجھ پر دباؤ ڈالے۔ فوج نے مجھے آج تک کوئی ایک ایسی بات نہیں کہی جس کی بنیاد پر میں مزاحمت کروں۔ ساری خارجہ پالیسی تحریک انصاف کی ہے۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے منشور میں جو تھا ہم نے اس پر عمل کیا۔ مثال کے طور پر میں نے افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’عاصم سلیم باجوہ کو فوج کے پریشر میں عہدہ نہیں دیا بلکہ ان کو تجربے پر سی پیک پر لگایا کیونکہ وہ سدرن کمانڈ کے سربراہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اب بھی کسی کو عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے شک ہے تو وہ نیب سے رجوع کریں۔ تاہم عمران شاید بھول گئے کہ بطور وزیراعظم انکی جانب سے عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ مل چکی ہے اور نیب انہی کی کمانڈ میں کام کر رہا ہے۔
عمران خان نے اپوزیشن قیادت پر کیسز کے حوالے سے کہا کہ ’جن پر کرپشن کے کیسز ہیں یہ سب ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں۔ آصف زرداری اور نوازشریف نے ایک دوسرے پر کیسز بنائے۔ جب ہم حکومت میں آئے اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے باہر بھاگ چکے تھے۔ ہماری حکومت میں صرف شہبازشریف پر کیسز بنے ہیں۔‘ عمران خان نے یہ کطیفی بھی سنسیا کہ ’ہم نے اداروں کو آزاد چھوڑا ہوا ہے اور نیب پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔‘ وزیراعظم نے ایک اور لطیفہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’آصف زرداری اور نواز شریف دونوں سلیکٹڈ حکمران تھے جبکہ میں نے زیرو سے سٹارٹ لیا، اور 22 سال جدوجہد کی۔
اینکر نے سوال کیا کہ اپوزیشن کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ آپ ’یوٹرن کے ماسٹر‘ ہیں جس پر عمران خان نے کہا کہ ’جس نے زندگی میں کبھی مقابلہ کیا ہو وہ سمجھتا ہے کہ یوٹرن کیا ہے۔ مثال کے طور پر میچ کھیلنے جاتا ہوں تو میں نے جو حکمت عملی بنائی ہوگی اگر مخالف کوئی ایسی چال کھیلتا ہے جس پر اگر میں چلوں تو میچ ہار جاؤں گا۔ تو پھر میں اپنی حمکت عملی تبدیل کرتا ہوں۔ کیا اسٹریٹیجی کے تحت حکمت عملی بدلنے کو یوٹرن کہتے ہیں؟‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جب آپ مقابلے میں ہوتے ہیں تو جیتنے کے لیے آپ کو مسلسل اپنی حکمت عملی بدلنا پڑتی ہے۔
اینکر پرسن منصو رعلی خان نے وزیراعظم سے سوال کیا ”آپ کی پارٹی کے بہت سے رہنماﺅں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ میں آپ کو ’میرا کپتان‘ کہتا ہوں ،کیا آپ کو بھی اس سے کوئی مسئلہ ہے؟ اس سوال پر وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ میں دس سال کرکٹ ٹیم کا کپتان رہا ہوں۔ آپ تو مجھے صرف میرے کپتان کہتے ہیں، یہاں تو لوگ مجھے سلیکٹڈ کٹح پتلی یو ٹرن خان، نااہل خان، شیخ چلی، یہودی ایجنٹ اور پتہ نہیں کیسے کیسے ناموں سے پکارتے ہیں۔
وزیراعظم سے حالیہ عرصے میں صحافیوں کے اغوا کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ الزامات ہیں کہ میڈیا کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی جاتی ہے اور حال میں صحافی مطیع اللہ جان، علی عمران سید، ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر ساجد گوندل وغیرہ اغوا ہوئے۔
وزیراعظم نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ ‘مجھے ان میں سے کسی کے بارے میں بھی کوئی آئیڈیا نہیں کہ کیا ہوا ہے۔ لیکن جب بھی مطیع اللہ جان یا کسی اور کا اغوا ہوا تو میں نے نوٹس لیا اور وہ بندہ اسی وقت مل گیا۔ تاہم وزیراعظم شاہد بھول گئے کہ ہر مرتبہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو اغواشدہ صحافی بازیاب کرنے کا حکم ڈیڈ لائن کے ساتھ جاری کیا تھا۔
جب اینکر نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ پتہ تو چلائیں کہ کون لے کر گیا تھا انک لوگوں کو؟ تو وزیراعظم کا جواب تھا انھیں اس کا علم نہیں اور یہ معاملہ انھوں نے وزارتِ داخلہ پر چھوڑا ہوا ہے۔
