کپتان کا اوور کانفیڈنس یا غفلت؟ پی کے 8303 تباہ کیسے ہوا؟

22 مئی 2020 پاکستان کی فضائی تاریخ کے اُن سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ عید سے صرف ایک دن قبل لاہور سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 اپنے مسافروں کو اُن کے گھروں تک پہنچانے نکلی، مگر کراچی ایئرپورٹ سے چند لمحوں کی دوری پر یہ سفر ایک خوفناک سانحے میں بدل گیا۔

جہاز میں سوار 99 افراد میں سے صرف دو زندہ بچ سکے، جبکہ باقی سب اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اس حادثے نے نہ صرف پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ پاکستان کے فضائی نظام، تربیت، قواعد و ضوابط اور پائلٹس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

ابتدائی طور پر یہ پرواز مکمل طور پر معمول کے مطابق تھی۔ لاہور سے ٹیک آف کے بعد جہاز پرسکون انداز میں کراچی کی طرف رواں دواں رہا، مگر جیسے ہی طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب پہنچا، کاک پٹ کے اندر غلط فیصلوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے تباہی کی بنیاد رکھ دی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے لینڈنگ سے پہلے ضروری "اپروچ بریفنگ” نہیں کی، جس میں جہاز کی رفتار، بلندی، فاصلے اور رن وے تک رسائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی غلطی تھی جس نے بعد میں پورے حادثے کو جنم دیا۔

طیارہ مقررہ حد سے کہیں زیادہ بلندی اور رفتار پر تھا، مگر اس کے باوجود پائلٹس نے صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی حکمت عملی جاری رکھی۔ ایئر ٹریفک کنٹرول بار بار خبردار کرتا رہا کہ جہاز بہت اونچا ہے، مگر جواب یہی آتا رہا: "سر ہم پہنچ جائیں گے، انشا اللہ۔”

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طیارے کے کمپیوٹر نے متعدد بار "پُل اپ” اور "ٹُو لو، گیئر” جیسی وارننگز دیں، جو واضح اشارہ تھیں کہ جہاز خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے اور لینڈنگ گیئر بھی کھلے نہیں۔ مگر حیران کن طور پر ان وارننگز کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا بند کر دیا گیا۔ طیارہ تقریباً 200 ناٹس کی رفتار سے رن وے کے اوپر سے گزرا مگر اس کے پہیے بند تھے، جس کے نتیجے میں جہاز کے دونوں انجن رن وے سے ٹکرا گئے، چنگاریاں نکلیں اور انجن شدید متاثر ہو گئے۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں حادثہ ٹالا جا سکتا تھا۔ اگر پائلٹس اسی وقت جہاز روک دیتے تو شاید درجنوں زندگیاں بچ جاتیں، مگر اضطراب اور اوور کانفیڈنس نے ایک اور خطرناک فیصلہ کروا دیا: دوبارہ اڑان۔

رن وے سے رگڑ کھانے کے بعد انجنوں کا تیل بہہ چکا تھا، مگر کاک پٹ میں موجود پائلٹس کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ فرسٹ آفیسر نے چیخ کر کہا:"ٹیک آف سر، ٹیک آف!”
اور جہاز دوبارہ فضا میں بلند ہو گیا۔ یہ فیصلہ بعد میں مہلک ثابت ہوا، کیونکہ چند لمحوں بعد دونوں انجن ناکارہ ہو چکے تھے اور جہاز اب محض ہوا میں تیر رہا تھا۔پھر وہ لمحہ آیا جب کاک پٹ سے وہ الفاظ سنائی دیے جو ہر فضائی حادثے کی علامت سمجھے جاتے ہیں:"مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے!”پائلٹس جان چکے تھے کہ اب رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں۔

دو بج کر 40 منٹ پر پی کے 8303 کراچی ایئرپورٹ کے قریب ایک گنجان آبادی پر گر گیا۔ دھماکے، آگ اور دھوئیں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ رہائشی گھروں کی چھتیں ٹوٹ گئیں، گاڑیاں جل گئیں اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔

اس حادثے میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے ظفر مسعود نے بعد میں بتایا کہ جب جہاز دوسری بار لینڈنگ کی کوشش کر رہا تھا تو اُنہیں دل میں احساس ہو چکا تھا کہ اب حادثہ ہونے والا ہے۔ وہ کہتے ہیں:"مجھے اندر سے آواز آ رہی تھی کہ میں بچ جاؤں گا۔”
اور واقعی ایسا ہی ہوا۔

پاکستان کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی حتمی رپورٹ کے مطابق حادثے کی اصل وجہ تکنیکی خرابی نہیں بلکہ انسانی غلطیاں تھیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پائلٹس نے قواعد و ضوابط کی متعدد خلاف ورزیاں کیں، ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات نظر انداز کیں، ضروری بریفنگ نہیں کی، وارننگز کو دبایا گیا اور کاک پٹ میں غیر ضروری گفتگو جاری رہی۔ بروقت فیصلہ سازی کے فقدان نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق کپتان ماضی میں بھی تیز رفتار لینڈنگ اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث رہ چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حادثے کے بعد صرف پائلٹس ہی نہیں بلکہ پورے فضائی نظام کی نگرانی، تربیت اور حفاظتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے گئے۔پی کے 8303 صرف ایک فضائی حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کے فضائی نظام کی خامیوں، نگرانی کے فقدان اور حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد کی کمزوریوں کی علامت بن گیا۔ اس حادثے کے بعد پی آئی اے نے کئی اصلاحات متعارف کروائیں، جن میں پائلٹس کے نفسیاتی جائزے، طبی معائنے اور روزے کی حالت میں پرواز پر پابندی جیسے اقدامات شامل تھے۔

مگر آج بھی یہ سوال زندہ ہے کہ اگر ابتدائی وارننگز پر توجہ دے دی جاتی، اگر ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات مان لی جاتیں، اور اگر اوور کانفیڈنس کے بجائے پیشہ ورانہ احتیاط اختیار کی جاتی، تو کیا 97 جانیں بچ سکتی تھیں؟
یہ حادثہ شاید ہمیشہ اسی سوال کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

Back to top button