پانچ شکایات، ایک فیصلہ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سرخرو کیسے ہوئے؟

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر پانچوں شکایات متفقہ طور پر خارج کرتے ہوئے ان کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے جاری کر دیں۔ یہ فیصلہ 14 مئی کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جسے عدالتی حلقوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف مختلف نوعیت کے الزامات پر مبنی پانچ الگ الگ شکایات دائر کی گئی تھیں، تاہم کونسل نے تمام شکایات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔

پہلی شکایت پشاور ہائی کورٹ کے وکیل صبغت اللہ شاہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جو دراصل 2016 میں اُس وقت جمع کرائی گئی جب یحییٰ آفریدی پشاور ہائی کورٹ میں جج تھے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایڈیشنل سیشن ججز کی تقرری کے عمل میں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے اس الزام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شکایت خارج کر دی۔

دوسری شکایت کراچی کے شہری امجد حسین درانی نے دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اُن کا مقدمہ سپریم کورٹ میں بغیر شنوائی کے خارج کیا گیا، جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ معاملہ 12 جنوری 2022 کے ایک عدالتی فیصلے سے متعلق تھا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ کا حصہ تھے۔ کونسل نے اس شکایت کو بھی متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔

تیسری شکایت کراچی کے رہائشی کامران خان کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کی سابقہ شکایت بغیر شنوائی کے خارج کی تھی۔ کونسل نے اس مؤقف کو بھی قابلِ سماعت نہ سمجھتے ہوئے شکایت خارج کر دی۔

چوتھی شکایت وہاڑی کے رہائشی محمد مسعود نے دائر کی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ مارچ 2023 میں ایک دیوانی مقدمے میں قانون اور حقائق کے برخلاف فیصلہ دیا گیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق یہ فیصلہ “مس کنڈکٹ” کے زمرے میں آتا تھا کیونکہ اس بنچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل تھے۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا۔

پانچویں شکایت لاہور ہائیکورٹ کے وکیل امجد محمود نے دائر کی، جس میں کہا گیا کہ دسمبر 2024 میں ایک وکیل پر سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کرنا مس کنڈکٹ تھا۔ کونسل نے اس شکایت کو بھی متفقہ طور پر خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ فراہم کردہ مواد الزامات ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تین شکایات 2025 میں درج کی گئی تھیں، جن کے نمبرز 746/25، 748/2025 اور 750/2025 تھے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے نہ صرف شکایات مسترد کیں بلکہ ان کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھ دیں، جس سے عدالتی شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملتی ہے۔ جوڈیشل کونسل کے قواعد کے تحت اگر کسی شکایت کو خارج کر دیا جائے تو شکایت کنندہ چاہے تو اپنی شناخت اور شکایت کی تفصیلات پبلک کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف دائر شکایات کی تفصیلات بھی عوامی سطح پر جاری کی جا چکی ہیں، جسے عدالتی نظام میں شفافیت کی روایت کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

سیاسی اور قانونی مبصرین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے جبکہ یہ فیصلہ عدلیہ کے اندرونی احتسابی نظام پر بھی اعتماد بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Back to top button