’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نےمودی کیBJPکے چھکے کیسے چھڑائے؟

بھارت میں نوجوانوں کی بے چینی اب سڑکوں سے نکل کر سوشل میڈیا کی طاقتور دنیا میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک نئی اور غیر روایتی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تحریک نے صرف چند دنوں میں پورے ملک کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے اور بھارتی جین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے پانچ دن میں مودی کی پارٹی بی جے پی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ یا سی جے پی نامی ایک مزاحیہ مگر سیاسی رنگ لیے ہوئے گروپ نے صرف پانچ دن کے اندر انسٹاگرام پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورز حاصل کر کے بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ حیران کن طور پر اس گروپ نے فالوورز کی تعداد میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جس کے انسٹاگرام فالوورز 90 لاکھ سے کم ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت کے نوجوان بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی دباؤ اور مستقبل کے خوف کا شکار ہیں، یہ گروپ انہی مسائل کو طنز، مزاح اور میمز کے ذریعے اجاگر کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جین زی، یعنی 1995 سے 2007 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، اس تحریک کو اپنی آواز سمجھنے لگی ہے۔ سی جے پی کا لوگو ایک لال بیگ یعنی کاکروچ ہے، جبکہ اس کا نعرہ ہے:’نوجوانوں کا سیاسی محاذ، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے۔‘

اس تحریک کے 30 سالہ بانی ابھیجیت دپکے کے مطابق پارٹی کا نام اس وقت ذہن میں آیا جب بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک بیان میں کچھ بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی گئی۔ اگرچہ بعد میں وضاحت دی گئی کہ مقصد نوجوانوں کی توہین نہیں تھا، مگر سوشل میڈیا پر یہ لفظ نوجوانوں کی مزاحمت کی علامت بن گیا۔

دپکے کے مطابق بھارت میں نوجوان خود کو سیاسی گفتگو سے غائب محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کے مسائل پر بات تو کرتی ہیں، مگر حقیقی نمائندگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے سی جے پی وجود میں آئی۔

سی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور گرافکس میں میڈیا کی آزادی، خواتین کی نمائندگی، مہنگائی، امتحانی نظام، جعلی ڈگریوں، بے روزگاری اور مصنوعی ذہانت کے باعث ختم ہوتی ملازمتوں جیسے موضوعات کو مزاحیہ مگر تلخ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں بھارت میں قومی میڈیکل کالج کے داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے تھے۔ سی جے پی نے اس معاملے کو بھی بھرپور انداز میں اٹھایا، جس کے بعد نوجوانوں میں اس کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔

بین الاقوامی سرویز بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارت کی جین زی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، گھروں کی قیمتیں، کم روزگار کے مواقع اور مالی عدم تحفظ نے نوجوان نسل کو پریشان کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں نوجوان اب روایتی سیاست سے ہٹ کر ایسی تحریکوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو ان کی زبان میں بات کرتی ہوں۔بھارت کی تقریباً 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، مگر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری تقریباً 10 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

سی جے پی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا طنزیہ انداز بھی ہے۔ پارٹی کی رکنیت کے لیے رکھی گئی شرائط نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق رکن بننے کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں:
بے روزگار ہونا، سست ہونا، ہر وقت آن لائن رہنا اور پیشہ ورانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا۔

یہ مزاحیہ انداز نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، مگر اس کے پیچھے موجود تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان خود کو غیر محفوظ، نظر انداز اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔

لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان رکن سدھارتھ کناوجیا کے مطابق:“اس ملک میں نوجوانوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ نوکریاں کم ہیں، مقابلہ بڑھ رہا ہے، اور ہر طرف مایوسی ہے۔ کم از کم یہ پلیٹ فارم ہمارے مسائل پر بات تو کر رہا ہے۔”

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ یہ تحریک آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھے گی۔ ان کے مطابق یہ کسی پرتشدد احتجاج یا حکومت گرانے کی مہم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مسائل کو مرکزی سیاسی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔

لیکن سوال اب یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ صرف ایک وائرل سوشل میڈیا ٹرینڈ ہے یا واقعی بھارت کی سیاست میں نئی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے؟فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ بھارت کی جین زی اب خاموش رہنے کے موڈ میں نہیں، اور سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی یہ طنزیہ تحریک شاید مستقبل کی سیاست کا نیا چہرہ ثابت ہو۔بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی مبصرین کے مطابق ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بھارت میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے غصے، معاشی دباؤ اور سیاسی بے چینی کی علامت بن چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک روایتی سیاست سے مایوس نوجوان نسل کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو سوشل میڈیا کو بطور سیاسی پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہے۔
تاہم تازہ پیشرفت کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کے مسائل اور بے روزگاری کے خلاف سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی طنزیہ تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس کا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ بھارت میں بند یا محدود کردیا گیا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسا کہ توقع تھی، کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کردیا گیا ہے۔‘‘بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ غیرمعمولی رفتار سے نوجوانوں میں مقبول ہو رہی تھی۔ تحریک نے انسٹاگرام پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے بھی زیادہ فالوورز حاصل کرلیے تھے، جبکہ اس کے ایکس اکاؤنٹ پر بھی لاکھوں صارفین موجود تھے۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔

واضح رہے کہ یہ طنزیہ سیاسی تحریک بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازع بیان کے بعد سامنے آئی۔ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق چیف جسٹس نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی تھی، جس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، تاہم نوجوانوں نے احتجاجاً ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک منفرد اور مزاحیہ سیاسی مہم شروع کردی۔ کچھ ہی دنوں میں یہ تحریک بھارتی نوجوانوں، طلبہ اور بے روزگار طبقے کی آواز بن کر ابھری۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، طنزیہ پوسٹس اور سیاسی میمز کے ذریعے اس مہم نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی اور روزگار کے بحران پر سوالات اٹھائے۔

Back to top button