سمندر میں تیل کی تلاش: کیا واقعی پاکستان مالامال ہونے والا ہے؟

پاکستان ایک بار پھر اپنے سمندروں کی گہرائیوں میں چھپے ممکنہ تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے میدان میں اُتر آیا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد حکومت نے باقاعدہ طور پر آف شور ایکسپلوریشن کا آغاز کرتے ہوئے ایسے معاہدے کیے ہیں جنہیں ماہرین مستقبل کی معاشی جنگ میں ایک فیصلہ کن قدم قرار دے رہے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید توانائی بحران، بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، سمندر میں تیل و گیس کی تلاش پاکستان کے لیے امید کی نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر ان گہرے پانیوں سے ایک بھی بڑا ذخیرہ دریافت ہو جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان کا اربوں ڈالر کا امپورٹ بل کم ہو سکتا ہے بلکہ ملک توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔

اسلام آباد میں حالیہ پیش رفت کے دوران وزارتِ پیٹرولیم میں ’آف شور بِڈ راؤنڈ 2025‘ کے تحت 21 نئے پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔حکام کے مطابق یہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے توانائی مستقبل کا ایک بڑا امتحان ہے۔ اس پورے منصوبے کے تحت تقریباً 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر سمندری رقبے کو 23 مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیل اور گیس کی تلاش کی جائے گی۔اس منصوبے میں سب سے نمایاں کردار ’ماری انرجی‘ اور او جی ڈی سی ایل جیسی کمپنیوں کا سامنے آیا ہے۔ ماری انرجی نے 18 بلاکس بطور آپریٹر حاصل کیے جبکہ او جی ڈی سی ایل نے بھی متعدد اہم بلاکس اپنے نام کیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان معاہدوں کے بعد پاکستان میں آف شور انڈسٹری میں نئی سرمایہ کاری آئے گی اور جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی۔

ماہرین کے مطابق سمندر میں تیل تلاش کرنا زمین پر ڈرلنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، مہنگا اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمل کا آغاز سائسمک سروے سے کیا جاتا ہے، جس میں خصوصی بحری جہاز سمندر کے اندر صوتی لہریں چھوڑتے ہیں۔ یہ لہریں سمندر کی تہہ میں موجود چٹانوں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور سپر کمپیوٹرز ان معلومات کی مدد سے زمین کے نیچے کا تھری ڈی نقشہ تیار کرتے ہیں۔جب کسی مقام پر تیل یا گیس کے امکانات واضح ہونے لگتے ہیں تو وہاں آزمائشی کنواں کھودا جاتا ہے، جسے پیٹرولیم انڈسٹری میں ’وائلڈ کیٹ ویل‘ کہا جاتا ہے۔ یہی مرحلہ سب سے زیادہ مہنگا اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ کامیابی کے امکانات صرف 10 سے 20 فیصد تک ہوتے ہیں۔

اوگرا کے سابق ممبر گیس اور توانائی ماہر محمد عارف کے مطابق پاکستان میں اب تک سمندر کے اندر صرف 16 سے 17 آف شور کنویں کھودے گئے ہیں، جو انتہائی کم تعداد ہے۔ ان کے مطابق اگر پڑوسی ممالک کے سمندروں میں تیل اور گیس موجود ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی سمندری حدود مکمل طور پر خالی ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں اس شعبے میں مطلوبہ سرمایہ کاری ہی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ گہرے سمندر میں صرف ایک کنواں کھودنے پر 150 سے 200 ملین ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث پاکستان اس شعبے میں مستقل پیش رفت نہ کر سکا۔ تاہم اب حکومت کی نئی پالیسی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت نے امید پیدا کر دی ہے کہ آنے والے برسوں میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔

حکومت نے اس پورے مشن کو دو مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اگلے تین برسوں کے دوران تقریباً 8 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے تحقیق، سائسمک سروے اور جیو فزیکل اسٹڈیز کی جائیں گی۔ اگر نتائج مثبت رہے تو دوسرے مرحلے میں باقاعدہ ڈرلنگ شروع ہوگی، جہاں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کو سمندر میں ایک بھی بڑا تیل یا گیس کا ذخیرہ مل جاتا ہے تو اس کے اثرات ملکی معیشت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ پاکستان اس وقت روزانہ تقریباً چار لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔ یہی درآمدات زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہیں اور بجلی و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ماہرین گھانا کی مثال دیتے ہیں، جہاں آف شور تیل دریافت ہونے کے بعد معیشت میں حیران کن تبدیلی آئی اور وہ چند برسوں میں افریقہ کے اہم تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اسی طرح اگر پاکستان اپنے سمندری ذخائر دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف توانائی بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی فوری کامیابی نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق سمندر میں تیل کی تلاش ایک طویل اور مسلسل عمل ہے جس کے نتائج سامنے آنے میں پانچ سے چھ سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ مشن کامیاب رہا تو پاکستان کی معاشی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے، اور شاید پہلی بار ملک درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے حقیقی توانائی خود کفالت کی طرف بڑھ سکے۔

Back to top button