چناب پر بھارتی آبی منصوبے، خطے میں “واٹر وار” کے خدشات بڑھ گئے

بھارتی حکام کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے مسئلے پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے لگی ہے اور خطے میں ممکنہ “واٹر وار” کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب سے متعلق دو بڑے منصوبوں پر کام شروع کیے جانے کے بعد پاکستان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ خطے کے آبی توازن اور علاقائی امن کیلئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے تقریباً 2 ہزار 600 کروڑ بھارتی روپے مالیت کے دو بڑے منصوبوں پر کام شروع کیا ہے۔ ان منصوبوں میں سب سے اہم “چناب بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ” قرار دیا جا رہا ہے، جس پر تقریباً 2 ہزار 352 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کو مخصوص علاقوں کی طرف منتقل کرنا اور ہائیڈرو پاور صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مستقل ثالثی عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ اس کے باوجود نئی دہلی کی جانب سے چناب بیسن میں مختلف ہائیڈرو پاور اور پانی موڑنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا ہے، جسے پاکستان اپنے آبی حقوق کیلئے ایک بڑا چیلنج تصور کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام اور ماہرین کا مؤقف ہے کہ دریائے چناب پاکستان کی زراعت، آبپاشی اور آبی نظام کیلئے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اگر بھارت ان منصوبوں کے ذریعے پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتا ہے تو اس کے اثرات پنجاب اور دیگر زرعی علاقوں پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان منصوبوں کو محض ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ اسٹریٹجک آبی اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے عالمی فیصلوں اور بین الاقوامی اعتراضات کے باوجود نہ صرف ان منصوبوں پر کام تیز کیا بلکہ بھارتی سرکاری کمپنیوں کو ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان میں یہ خدشات مزید بڑھا دیے ہیں کہ مستقبل میں پانی جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر دریاؤں کے بہاؤ کو سیاسی یا اسٹریٹجک دباؤ کیلئے استعمال کیا گیا تو اس سے علاقائی کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں اور کشیدہ تعلقات کے باوجود قائم رہا، جسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ بھارتی اقدامات اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
پاکستان میں آبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت کو سفارتی، قانونی اور تکنیکی سطح پر فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر یہ تنازع بڑھتا گیا تو مستقبل میں پانی خطے میں تیل سے بھی بڑا اسٹریٹجک مسئلہ بن سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق چناب پر بھارتی منصوبے صرف انفراسٹرکچر یا توانائی کے منصوبے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں پانی اب ایک نئی طاقت اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
