نہ ہم بدلے نہ ’تم ‘بدلے!

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
’’نہ رنگِ پاکستان بدلا ‘‘، کیسے یقین کرلوں کہ ’’نظام پاکستان ‘‘بدل جائیگا ۔ ڈھاک کے وہی تین پات ، 28ویں ترمیم لانیوالے خواب خرگوش کی سہولت سے آراستہ وپیراستہ ، یقینا ًساڑھے 11 کروڑ خطِ غربت سے نیچے گزر اوقات کرنیوالے پاکستانیوں کی حالت زار سے بے خبرہیں ۔ پانچ کروڑ پاکستانی تو ایسے جو بمشکل دن کی ایک روٹی پانی کیساتھ کھانے پر مجبور ہیں ۔ کامیاب و کامران حکومت کی مضبوطی کا انحصار تین اجزا پر ہے ۔ کسی ایک جُزو کی کمی ، کمزوری حکومت کو ہلکان رکھنے کیلئے کافی ہے ۔ تین اجزا ، خلائق کا اعتماد ، خزانے کا لبالب ہونا اور مضبوط لشکر کا موجود رہنا ہے ۔

پتہ پتہ بوٹا بوٹا جانتا ہے کہ کراچی کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر ، خلائق حکومت سے انتہائی بدظن ہیں ۔ صبح و شام حکومت کو بددعائیں دینے سے فرصت نہیں ملتی ۔

خزانہ بوجوہ خالی ہے ، معاشیات اگرچہ جاں بلب نہیں ، مگر قرض مانگ تانگ کر بمشکل سانس لے رہی ہے ۔ الحمدللہ ! فقط لشکر ہی ہےجو مضبوط ہے اور واحد آسودگی کہ مملکتِ خداداد اپنے دشمنوں پر حاوی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکمران مخلوق کو خاطر میں لاتے اورساڑھے گیارہ کروڑ لوگوں کو بھوک ننگ افلاس سے نکالنے کی کوئی کاوش ہوتی ، خزانہ بھرنے اور قرض اُتارنے کی کوئی سبیل نکلتی ۔ حیف ! حکومت اپنے عوام سے لاتعلق ، دوری کا رشتہ جوڑ چکی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا ریاست 24کروڑ عوام سے اپنا تعلق جوڑتی ، 12 کروڑ عوام کاافلاس اور دُکھ درد بانٹتی ، انکی دیکھ بھال کرتی ۔ 7 دہائیوں سے زیادہ وطنی مقتدرہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے میں دن رات لگاتے خرچ ہوئے ۔

حکمرانوں کا عدم تحفظ ، اقتدار مضبوط کرنے کی تگ و دو عوام الناس کی مفلوک الحالی پر حاوی ہے ۔ جب سے ہائبرڈ نظام وجود میں آیا ہے ، حکومتِ وقت کی ساری کوششیں عوام الناس کویہ باور کروانے پر صرف ہیں کہ ’’ حکومت بہت مضبوط ہے‘‘ ۔ ’’عوامی قیادت ‘‘ اور’’ عسکری قیادت‘‘ میں جو ہم آہنگی آج دیکھنے کو ملی ہے ، تاریخ ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ، بدقسمتی سے یہی الفاظ عمران خان دور میں بھی بار بار سننے کو ملتے تھے ۔

حکومت کے دعووں کی گونج اگرچہ سمع خراشی کا باعث ، مگر جب دعویٰ آتا ہے کہ ’’عوام ہمارے ساتھ ہیں ‘‘، تو حکومت پر ترس آتا ہے ۔ آج ہر درجہ اور ہر طبقہ کے عوام حکومت سے نالاں ہیں ۔ کئی بار تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے طول و عرض میں حکومت کی مخالفت میں عوام کا ایکا اور یکجہتی ہے ۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ جب کبھی موجودہ حکومت عوام الناس کے سامنے گئی توشاید عوام کے ہاتھوں اپنی تاریخی سیاسی دُھلائی دیکھے گی ۔

وطنی بدنصیبی کہ وطنِ عزیز کے سیاہ سفید کے مالک ، برسوں حکومت کے مزے لوٹنے والے ، بعداز اقتدار اپنے لوگوں کا سامنا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کا اصل بحران صرف اتنا کہ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، اندرون خانہ ایک غبار اُٹھنے کو ہے ۔ نوابزادہ نصراللہ صاحب مارشل لاؤں میں ایک شعر پڑھتے تھے ، ’’کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد رہتا ہے…. غبارِ قیس خود اُٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے ‘‘۔ حکومت پر کڑا وقت آن پہنچا ہے مگر شاید حکومت کو اس وقت خبر ہوگی جب زمین نیچے سے سرک جائیگی ۔

حکومت کی صحت تندرستی کا تعین کرنے کیلئے کوئی راکٹ سائنس نہیں چاہیے ، نہ مقتدرہ کے اندر باہمی رنجش اور چپقلش کو ثابت کرنے کیلئے مسئلہ فیثا غورث درکار ہے ۔ چند ماہ کی بات ہے کہ خبریں عام ہوئیں کہ حکومتی ٹیم نالائق ہے ۔ باوجودیہ کہ عسکری قیادت نے کئی پراجیکٹ شروع کئے ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو کئی مالی و اخلاقی فائدے دلوائے ، 3/4 سو بلین ڈالرز کی خطیر رقم کمائی جا سکتی تھی ، مگر حکومت کی نالائقی اور اسکےاتحادی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ پیپلز پارٹی کے حکومت سے تناؤ بارے افواہیں حکومت کو لرزہ براندام کر چکیں ۔

افواہوں کے اندر ایک جُزو یہ بھی کہ ’’زرداری صاحب صدارت سے مستعفی ہو جائیں اور یہ عہدہ ایک اہم شخصیت کے حوالے کر دیا جائے‘‘ ۔ 27ویں ترمیم کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر ، پیپلز پارٹی کی اُمنگوں کےمطابق ڈھالی ضرور گئی مگر پیپلز پارٹی بارے کدورت ناراضی اور رنجش ریاستی دِلوں میں رَچ بس گئی ۔ مقتدرہ کے نزدیک پیپلز پارٹی اب ایک بوجھ بن چکی ہے ۔ پیپلز پارٹی حکومت کا واحد ستون جس پر حکومت قائم ہے ، ادھر ستون علیحدہ ادھر حکومت دھڑام سے زمیں بوس ہو جانی ہے ۔

اس سے پہلے ” GREEN PAKISTAN INITIATIVE ” منصوبہ جو 100ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا تھا اور چولستان کینال پراجیکٹ کے تحت 6 نہریں پہنچانی تھیں ۔ صوبہ سندھ نے مل کر اسے ناکام بنایا مگر مقتدرہ نے سارا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال دیا ۔ چند مہینے پہلے جب شہباز شریف نے کابینہ میں رد و بدل کا سوچا تو میری سوچوں کے آوارہ گھوڑوں نے اپنی کہانی ترتیب دے ڈالی ۔ بعینہ عمران خان طرز اور نمونہ پر ، جب 29نومبر 2019ءمیں عمران خان نے پنجاب کی بیوروکریسی کی اُکھاڑ پچھاڑ کر ڈالی ، ساتھ ہی ساتھ اپنی کابینہ میں رد و بدل کیا مگر بڑے خوش نہ ہوئے چنانچہ 2020ءمیں PDM کی ’’عمران ہٹاؤ تحریک‘‘ سے لیکر تحریک عدم اعتماد تک عمران حکومت کی فراغت تک ، عزم صمیم رہا ۔ اگرچہ میں اپنا سیاسی زائچہ بنا چکا تھا کہ 2027ء کے آخر یا 2028ءکے پہلے چند مہینوں میں قبل از وقت جنرل الیکشن ہو جائیں گے اور شہباز حکومت خود کروائے گی ۔ میرے زائچہ کےمطابق ’ونڈر بوائے‘ نگران وزیراعظم بنے گا ۔ میرے زائچے کےمطابق نگران حکومت کو آئینی بینچ 3 سال تحفظ دے گا ۔ اور بعد ازاں نگران حکومت اپنے من پسند لوگوں کو ہر قسم کا تحفظ دے گی بلکہ تن من دھن انکے لئےوقف رہیں گے ۔ پانچ ماہ پہلے جب میں نے زائچہ بنایا تھا تو ہر گزرتا ہفتہ اور اب ہر گزرتا دن میرے زائچے کو مضبوط و مربوط بنا رہا تھا کہ اچانک کئی مہینوں بعد جب صوبوں اور NFC ایوارڈ یا 28ویں ترمیم کاشور و غوغا دوبارہ ہوا تو مجھے اپنے زائچے میں تھوڑی ترمیم کرنا پڑ گئی ۔ قبل از وقت سر پر پہنچا نظر آیا ۔ موجودہ تناؤ بڑھا تو انتخابات دو سال کی بجائے شاید اگلے چند ماہ میں منعقد ہو جائیں مگر وزیر اعظم ’’ونڈر بوائے‘‘ ہی بنے گا ۔

حیرانی نہیں ہو گی، آنیوالے دنوں میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی یک جاں دو قالب ہونگے ۔ جبکہ بدقسمت مسلم لیگ ن کا حشر کنونشن لیگ ، مسلم لیگ فنکشنل اور ق لیگ جیسا ، راندہ درگاہ بنے گی ۔ اگلے سیاسی ٹاکرے میں PTI ، PPP اور JUI بمقابلہ مسلم لیگ ونڈر بوائے پارٹی ہوگی ۔ اور اگر الیکشن ہو بھی گئے تو ونڈر بوائے پارٹی ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی ۔

 

Check Also
Close
Back to top button