ایران امریکا مذاکرات خطرے میں، یورینیم معاملے پر کشیدگی مزید بڑھ گئی

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کرنے سے واضح انکار اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ردعمل نے خطے میں نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی، سفارتکاری اور سلامتی کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم اسے حاصل کریں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہم اسے نہیں چاہتے، اور جب ہم اسے حاصل کر لیں گے تو غالباً اسے تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ایران کو اسے رکھنے نہیں دیں گے۔”

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ حکام کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کا تقریباً ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ یورینیم کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ دو سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد ایرانی ریاستی اداروں میں مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ جوہری ذخائر کی بیرون ملک منتقلی ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر افزودہ یورینیم بیرون ملک بھیج دیا گیا تو ایران مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے سامنے زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تہران اس معاملے کو صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ اپنی دفاعی حکمت عملی اور قومی بقا سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں یہ شرط لازمی شامل ہوگی کہ تہران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے۔ یہی شرط اس وقت جاری مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود ایران نے اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے فوجی کمانڈرز کے ساتھ اہم ملاقات میں واضح کیا کہ ایران کسی دباؤ کے تحت ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش “محض ایک خوش فہمی” ہے۔ ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے بھی اعلان کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اس دوران امریکی میڈیا سی این این نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے دوران ڈرونز کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے آبنائے ہرمز پر ایک نئے “کنٹرول زون” کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حساس بحری راستے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو اب پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام بحری نگرانی اور سلامتی کیلئے ضروری ہے، تاہم متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عالمی بحری آزادی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔

عالمی منڈیوں نے بھی اس کشیدہ صورتحال پر فوری ردعمل دیا ہے۔ ایران امریکا مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ادھر پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کو بحال رکھنے اور کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کیلئے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کا مسئلہ اب صرف ایک تکنیکی یا سفارتی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی سیاست، اسرائیل کی سلامتی، عالمی توانائی کے راستوں اور بڑی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال مزید حساس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Back to top button