ایران کا افزودہ یورینیئم کس ملک کے پاس جائے گا؟ فیصلہ ہو گیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک نئی اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان کو امریکا اور اسرائیل کیلئے ایک سخت اور دوٹوک پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے ایک بنیادی شرط رکھی گئی تھی کہ تہران اپنے انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کسی تیسرے ملک کے حوالے کرے تاکہ ایران کی جوہری صلاحیت محدود کی جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر اس مطالبے کو دہرا چکے ہیں جبکہ اسرائیل مسلسل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ تاہم اب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی ہدایات نے اس پورے معاملے میں ایران کا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے۔ دو سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق خامنہ ای نے اعلیٰ حکام کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ افزودہ یورینیئم ایران کی قومی سلامتی، دفاعی حکمت عملی اور اسٹریٹجک خودمختاری کا حصہ ہے، اس لیے اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی اسٹیبلشمنٹ میں اس بات پر مکمل اتفاق موجود ہے کہ اگر افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کیا گیا تو ایران مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کے ممکنہ فوجی دباؤ یا حملوں کے سامنے زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ اسی لیے تہران اس معاملے کو صرف سفارتی یا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اپنی بقا اور دفاعی توازن سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یہ شرط لازمی شامل ہوگی کہ تہران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرے۔ یہی شرط اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس حملوں سے پہلے تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا تھا۔ ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار بنانے کیلئے تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری ذخائر پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے یہ ذخائر زیادہ تر اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات میں محفوظ تھے، تاہم حالیہ حملوں اور کشیدگی کے بعد ان ذخائر کے مکمل حجم اور موجودہ صورتحال کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ یہی غیر یقینی صورتحال عالمی طاقتوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں لچک دکھانے کیلئے تیار ضرور ہے، مگر اپنی جوہری صلاحیت اور اسٹریٹجک اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
