ایران کا افزودہ یورینیئم ملک سےباہربھیجنےسےصاف انکار

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیئم کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو واضح پالیسی دیدی۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے۔
دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ سپریم لیڈر کی اس نئی ہدایت کے بعد امریکا کے اس مطالبے پر سخت مؤقف اپنانے کا فیصلہ کیا جس میں افزودہ یورینیئم کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے کو کہا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکام مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کیا جائے۔
اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں یہ شرط شامل ہوگی کہ ایران کا افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک بھیجا جائے گا۔
تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایت دی ہے کہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ایران سے باہر نہیں جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ میں اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر یہ مواد بیرونِ ملک منتقل کیا گیا تو ایران مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو جائے گا۔
