کوکین کوئین پنکی کے اکاؤنٹس سے کروڑوں کی ٹرانزیکشنز کس نے کیں؟

کراچی سے گرفتار ہونے والی ڈرگ ڈیلرکوکین کوئین انمول عرف پنکی کا کیس اب ایک نئے اور زیادہ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور ڈیجیٹل فرانزک رپورٹوں میں ایسے انکشافات سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چونکا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور اب اس کیس کے تانے بانے صرف منشیات فروشی تک محدود نہیں رہے بلکہ مبینہ منی لانڈرنگ، ہائی پروفائل مالی لین دین اور بااثر شخصیات سے روابط تک جا پہنچے ہیں۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق پنکی کے ایک بینک اکاؤنٹ سے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً تین کروڑ روپے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ رقم مبینہ طور پر کوکین کی خرید و فروخت سے حاصل کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ذیشان نامی شخص نے مختلف اکاؤنٹس میں یہ رقوم منتقل کیں، جبکہ بعض ٹرانزیکشنز ایسے افراد اور اداروں کے اکاؤنٹس میں گئیں جن کی سرگرمیوں کا اب باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کے مزید بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں، پنکی کے صرف ایک اکاؤنٹس سے ڈیڑھ سال میں تقریباً 3 کروڑ روپے منتقلی کا انکشاف ہواہے، کوکین کسٹمرز سے لی گئی 2 کروڑ 94 لاکھ روپے مختلف بینک اکاؤنٹس میں بھیجی گئی، ذیشان نامی شخص نے بینک سے دیگر اکاؤنٹس میں ڈیڑھ سال کے دوران یہ رقم منتقل کی، بسال ایماکا نامی اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار ، صداقت اللہ اکاؤنٹ ہولڈر کو16 لاکھ 50 ہزار ، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ0 5ہزار روپے ، محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار ، ظفر علی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار روپے ، سکائی اوورسیز نامی ببینک اکاؤنٹ میں 10لاکھ روپے ، یہ سب ٹرانزیکشنز مبینہ طور پر غیر قانونی تھیں ،تحقیقاتی ٹیم نے سٹیٹ بینک سے مالی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق مختلف اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے کی منتقلی ہوئی، جن میں بعض کاروباری اور نجی کمپنیوں سے منسلک اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں تحقیقاتی ٹیم نے سٹیٹ بینک سے مکمل مالی ریکارڈ اور ٹرانزیکشن ہسٹری طلب کر لی ہے تاکہ رقم کے اصل ذرائع اور استعمال کا سراغ لگایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اس کیس میں ایف آئی اے، اے این ایف اور مختلف بینکوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے اگلے مرحلے میں کئی اہم شخصیات کو شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
اس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو وہ مبینہ رابطہ فہرست ہے جس میں 800 سے زائد افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنکی مسلسل تقریباً 860 افراد سے رابطے میں رہی جبکہ اس کے مبینہ کلائنٹ نیٹ ورک میں 250 سے زائد رجسٹرڈ صارفین شامل تھے۔تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فہرست میں کارپوریٹ شخصیات، نجی کمپنیوں کے مالکان، سی ای اوز، سیاست دان، بیوروکریٹس، پارٹی آرگنائزرز اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس کیس کو صرف ایک عام منشیات فروش کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع ہائی پروفائل نیٹ ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بھی اس کیس پر بریفنگ دی گئی، جہاں بتایا گیا کہ تحقیقاتی اداروں نے مبینہ خریداروں کے نام، فون نمبرز اور گھریلو پتے حاصل کر لیے ہیں۔اگرچہ ابھی تک کسی بڑی شخصیت کا نام باضابطہ طور پر منظر عام پر نہیں لایا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس کیس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ حلقے اسے کراچی کی پوش سوسائٹی میں منشیات کے بڑھتے رجحان کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں بااثر افراد اس نیٹ ورک سے جڑے تھے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے خاموش کیوں رہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں منشیات کا کاروبار اب صرف گلی محلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ڈیجیٹل رابطوں، آن لائن نیٹ ورکس اور مالیاتی نظام کے ذریعے ایک منظم شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کیس میں ڈیجیٹل فرانزک اور مالیاتی آڈٹ کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اب سب کی نظریں تحقیقاتی اداروں پر ہیں کہ آیا یہ کیس واقعی بڑے ناموں تک پہنچے گا یا پھر ماضی کے کئی ہائی پروفائل مقدمات کی طرح وقت گزرنے کے ساتھ خاموشی میں دب جائے گا۔

Back to top button