جنگ یا مذاکرات؟ خطے کی نظریں پاکستان کی ثالثی پر جم گئیں

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے خاموش مگر متحرک سفارتکاری کے ذریعے ایک اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران آمد و رفت اب عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک ہی ہفتے میں دوسرا دورۂ تہران اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے عملی ثالثی کا کردار سنبھال لیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک حساس اور اہم مشن کا حصہ ہیں، جس کے نتائج آنے والے 48 گھنٹوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے واشنگٹن کی جانب سے اہم تجاویز اور پیغامات ایرانی قیادت تک پہنچائے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مکمل تصادم سے بچیں اور کسی ایسے راستے پر متفق ہوں جس سے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہو بلکہ جوہری مذاکرات کی بحالی کا ماحول بھی پیدا ہو سکے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر لچک دکھائے، جبکہ ایران مستقل جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کے بعد مذاکرات کی طرف بڑھنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر بھی اہم پیش رفت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے پہلے دورۂ تہران کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے اہم مشاورت ہوئی، جس کے فوراً بعد ان کی دوبارہ تہران روانگی اس بات کی علامت ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ شٹل ڈپلومیسی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دونوں فریق پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور متوازن ثالث سمجھتے ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔عالمی میڈیا بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان اس بحران میں محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے سفارتی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایک بڑی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اپنے مطالبات میں کچھ نرمی دکھاتا ہے تو ایران بھی بعض اہم معاملات پر لچک اختیار کر سکتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔اس پورے عمل میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان بیک وقت خطے میں استحکام، اقتصادی تحفظ اور توانائی کے مفادات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور تجارتی راستوں کے حوالے سے۔آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ پہلے ہی عالمی منڈیوں کو پریشان کیے ہوئے ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کشیدگی کم کروانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔فی الحال تمام نظریں تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان جاری خاموش سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں۔ آنے والے 48 گھنٹے نہ صرف ایران امریکا تعلقات بلکہ پورے خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
