عمران کی محبت میں پرویزنے خاندان کے بعد جماعت بھی توڑ دی


چوہدری پرویز الہی دھڑے کی جانب سے عمران خان کی محبت میں اپنے خاندان کے بعد اپنی جماعت کو بھی تقسیم کر دینے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی کے مابین جاری جنگ کا ڈراپ سین ہو گیا ہے اور پاکستان مسلم لیگ قاف ٹوٹ گئی ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی کے حمایتی چوہدری شجاعت کے بھائی چوہدری وجاہت حسین نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے ایماء پر قاف لیگ سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنا سیاسی مستقبل عمران خان کے ساتھ وابستہ کر لیا ہے جسے ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان کے اقتدار کی آخری دنوں میں چودھری پرویز الہی نے وزارت اعلی حاصل کرنے کی خاطر چوہدری شجاعت حسین کو اعتماد میں لیے بغیر عمران سے ہاتھ ملا لیا تھا اور اتحادی جماعتوں کو دھوکا دے گئے تھے جس کے بعد چوہدری شجاعت نے اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے رینے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں قاف لیگ کے طارق بشیر چیمہ اور چوہدری سالک حسین نے شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کے لیے ووٹ بھی دیا۔ پھر دونوں کو وفاقی وزیر بھی بنا دیا گیا جس کے بعد خاندان میں اختلافات شدید تر ہوگئے کیونکہ چوہدری پرویز الہی وزیر اعلی بننے میں ناکام ہوگئے تھے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آئی کہ چوہدری خاندان میں جھگڑا صرف سیاسی نہیں ہے بلکہ ذاتی بھی ہے چونکہ چودھری پرویز الہی نے خفیہ طور پر دوسری شادی کرلی ہے۔ یاد رہے کہ شجاعت کی ہمشیرہ پرویز الہی کی اہلیہ ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے یہ افواہیں گرم تھی کہ چوہدری پرویز الہی یا تو چودھری شجاعت کو صدارت سے ہٹا دیں گے یا ایک علیحدہ پارٹی تشکیل دیں گے۔ چنانچہ اب شجاعت کے چھوٹے بھائی چودھری وجاہت حسین نے پرویز الہی کے ایما پر ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری وجاہت حسین نے الزام لگایا کہ ’طارق بشیر چیمہ کی وجہ سے ان کے خاندان میں تقسیم پیدا ہوئی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ پانچ ماہ سے دونوں بھائیوں کو اکٹھا کرنے کی بہت کوشش کی تاہم چودھری شجاعت حسین اپنی اولاد کے ہاتھوں مجبور ہوچکے ہیں جس نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ انہیں خراب کر رہی ہے۔‘

وجاہت حسین نے اعلان کیا کہ ’ہم نئی جماعت بنائیں گے، الیکشن کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔ پی پی 31 سے ہمارے خاندان کے امیدوار میاں عمران مسعود ہی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’چودھری شجاعت حسین نے انہیں کہا کہ عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ میں اور پرویز الٰہی ایک تھے اور ایک ہیں، لیکن کیا وقت آ گیا ہے کہ ایک بھائی کے آگے جبکہ دوسرے بھائی کے پیچھے پولیس لگی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری ظہور الٰہی کے خاندان کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔‘’

اپنے مقام اور مرتبے سے گرتے ہوئے وجاہت حسین نے پرویز الٰہی کی زبان بھی بولی اور کہا کہ ہمارے لیے یہ افسوس کی بات ہے کہ چودھری شجاعت کا بیٹا آصف زرداری سے ڈالرز مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری سالک کا گجرات کی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جونیجو دور سے لے کر کئی برسوں تک نواز شریف کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا، جب وہ جدہ چلے گئے تب ہی ساتھ چھوڑا۔ پرویز مشرف کا ساتھ اس وقت تک دیا جب تک وہ پاکستان میں رہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اپنا وعدہ پورا کریں گے۔‘چودھری وجاہت حسین کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی چودھری حسین الٰہی نے اس موقع پر کہا کہ ’ہمارے مخالفین جو ہمیں حلقوں اور ضلعوں میں نہیں ہرا سکے وہ ہمارے گھر میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔‘ ’ہم اپنے مخالفین کا دلیری سے مقابلہ کریں گے، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، حمزہ شہباز کی حکومت چودھری پرویز الٰہی اور چودھری مونس الٰہی پر مقدمات درج کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ہمارے گھر کے اپنے لوگ ہی شہباز شریف کو تعاون کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ اس وقت اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہیٰ کے کیمپ میں موجود چوہدری وجاہت حسین گجرات میں مقامی سطح پر کافی اثر و رسوخ کی رکھتے ہیں اور پارٹی کو طاقت ور بنانے کے لیے پیچھے رہ کر کام کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وجاہت کی عزت چوہدری شجاعت کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے بنی ہوئی تھی۔ چوہدری وجاہت نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین سے کہا تھا کہ وہ 30 جون تک حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی سے متعلق فیصلہ کریں جب کہ پارٹی کے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کی بھاری اکثریت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان اور سپورٹرز انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حق میں ہیں اس لیے پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کو ختم کرنا چاہیے۔ تاہم دوسری جانب چودھری شجاعت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے ہمیشہ پرویز الہی اور ان کے بیٹے مونس کو حکومتی عہدے دلوانے کی خاطر اپنی خوشیوں کی قربانیاں دی ہیں لیکن اس کا صلہ احسان فراموشی کی صورت میں سامنے آیا ہے لہذا اب شجاعت خاندان اخلاقی طور پر بھی اپنے سیاسی فیصلے کرنے میں آزاد ہو گیا ہے۔

Back to top button