قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

وفاقی حکومت کی جانب سے مختصر نوٹس پر طلب کیے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوئے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے جلد بازی میں اجلاس طلب کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے کیا منطق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی اراکین کو اپنے حلقوں سے اسلام آباد پہنچنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، سابق سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے وزرا سے سوالات کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ ان تمام اراکین کے سوالوں کو موخر کریں جو اس وقت ایوان میں موجود نہیں ہیں۔
سابق وزیراعطم راجا پرویز اشرف نے بھی مختصر نوٹس پر اجلاس کی طلبی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کئی اراکین کراچی اور ملتان ایئر پورٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں ، بلوچستان سے لوگ نہیں آ پا رہے ہیں کیونکہ اجلاس کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے نوٹس پر طلب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اراکین سوالوں کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اکثر سوالوں کے جوابات تحریری شکل میں نہیں دیئے گئے جو ایک مذاق ہے ، راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے غیرذمہ داری کی انتہا ہے ، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور ہم احتجاج رجسٹر کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ ایوان حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے ، ہم قیمتوں میں اضافے پر بحث کرنا چاہتے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ یہ سوالوں کے جوابات دینے کے لیے وہ خود ایوان میں آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اکتوبر سے شروع ہونے والے پوری سہ ماہی میں ایوان میں نہیں آئے جبکہ اجلاس 10 جنوری کو شیڈول تھا لیکن حکومت نے اچانک طلب کر لیا ، خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت ایوان کے قواعد و ضوابط کا تقدس برقرار رکھے۔
اپوزیشن اراکین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی وزیراعظم سے سوال کی اجازت کے لیے ایک گھنٹے کی ترمیم پیش کر دی ہے ، اس معاملے پر اب بھی بحث ہو رہی ہے۔مراد سعید نے کہا کہ مشکل وقت گزر چکا ہے اور نیا سال ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت 8 جنوری کو احساس پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں اور تمام اراکین اس میں شرکت کریں۔
خیال رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا تھا حالانکہ 16 دسمبر کو اجلاس بھی اچانک ملتوی کر دیا گیا تھا جبکہ ایڈوائزری کمیٹی نے طے کیا تھا کہ اجلاس 20 دسمبر تک جاری رہے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا تھا۔
دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا تھا جہاں رضا ربانی سمیت اپوزیشن اراکین نے حکومت کے اقدامات پر تنقید کی۔حکومت کی جانب سے 24 گھنٹے کے نوٹس پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے پر اپوزیشن نے حیرت کا اظہار کیا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ ایسی کیا ضرورت تھی کہ پارلیمان کے اجلاس اتنی عجلت میں بلائے گئے جبکہ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مقننہ کو حالیہ اہم پیشرفت پر اعتماد میں لینے کے لیے کیا گیا۔
سینیٹر رضا ربانی نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں 24 گھنٹے میں اجلاس طلب کرنے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی جبکہ دھند کے باعث دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے اراکین کو اسلام آباد پہنچنے میں دشواری ہوگی۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن کی جانب سے درخواست دینے کے ایک روز بعد ہی طلب کرلیا گیا۔
قبل ازیں معمول کے مطابق سینیٹ کے آخری اجلاس 29 اگست سے 3 ستمبر تک ہوئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کا گزشتہ اجلاس 16 دسمبر کو اچانک ملتوی ہوگیا تھا۔سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 54 کے تحت صدر مملکت کو جب مناسب لگے وقتاً فوقتاً ایک ایوان یا پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب اور ملتوی کرسکتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عقل سے خالی حکومت پارلیمان کو بھی اسی بے ہنگم انداز میں چلانا چاہتی ہے جس طرح ملک چلا رہی ہے۔منگل کی شام 5 بجے اراکین اسمبلی کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ اجلاس اگلے ہی روز ہوگا جس کے لیے نہ تو اراکین کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن کا ردِ عمل حیرت انگیز ہے کیوںکہ اجلاس انہی کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب اجلاس کے لیے درخواست سینیٹ سیکریٹری کے پاس جمع کروائی گئی تو انہوں نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفرالحق اور شیری رحمٰن کے ساتھ دیگر پارلیمانی رہنماؤں سے رابطہ کر کے بتایا تھا کہ حکومت ان کی درخواست پر سینیٹ کا سیشن طلب کر رہی ہے جس کے لیے 14 روز درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس سے لے کر اب تک متعدد اہم پیشرفت ہوچکی ہیں جس پر حکومت ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے اور وزیراعظم عمران خان بھی سینیٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
