لاپتہ افراد کے لواحقین کا GHQ کی طرف مارچ روک دیا گیا

https://youtu.be/F8pEJd-p5N0
بلوچستان کے بعد سندھ میں بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے، اسی سلسلے میں سندھ سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے پاک فوج کے راولپنڈی ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو پہنچ کر اپنا احتجاج رجسٹر کرانے کے لیے پیدل مارچ شروع کیا تھا۔ تاہم اس مارچ کو پنجاب اور سندھ کی سرحد پر روک دیا گیا ہے اور خواتین سمیت دو درجن افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ سبھا نامی تنظیم نے اس مارچ کا آغاز 10 نومبر کو کراچی سے کیا تھا، جس میں سندھ سے لاپتہ افراد کے رشتے دار شامل ہیں۔ یہ مارچ کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا، ضلع گھوٹکی پہنچا جہاں سے اس کو پنجاب کی حدود میں داخل ہونا تھا۔ مارچ میں شریک خاتون ہانی بلوچ نے، جس کا منگیتر نسیم کراچی سے لاپتہ ہے، بتایا کہ انہیں پولیس نے یہ کہہ کر پنجاب کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ہے کہ مارچ کے سربراہ انعام عباسی پر بھٹ شاہ تھانے پر مقدمہ درج ہے لہٰذا انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد مارچ کے شرکا نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا تو پولیس پہنچ گئی اور انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ لہذا اب مظاہرین نے وہیں ٹینٹ لگا کر اپنا احتجاجی کیمپ بنا لیا ہے۔ ہانی بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں کہا گیا تھا کہ تمام لوگ کرونا ٹیسٹ کروائیں جسکے بود کلیئر ہونے والوں کو آگے جانے دیں گے۔ لیکن اب ان لوگوں کے ٹیسٹ کلیئر ہونے کے باوجود بھی انہیں آگے جانے نہیں دیا جا رہا۔
یاد رہے کہ اس پیدل مارچ کی قیادت کرنے والے انعام عباسی ماضی میں خود بھی لاپتہ رہے ہیں۔ رہائی کے بعد وہ کراچی پریس کلب کے باہر مسلسل کئی روز احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔ اس مارچ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن ان کی بات سننے کوئی نہیں آیا۔ لہذا انہوں نے جی ایچ کیو جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا۔ مقامی صحافی گل محمد پنہور نے بتایا کہ پولیس نے لیڈیز پولیس کے ساتھ موقع پر پہنچ کر تمام خواتین اور مردوں کو حراست میں لے لیا اور سب کو تھانے میں بند کر دیا ہے جب کہ شہر کی سیاسی سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے تھانے پہنچ کر مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم خواتین کو رہا کیا جائے۔ گل محمد کے مطابق ان کی ڈی ایس پی محمد پناہ سے بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ انہیں حکم ملا ہے کہ اس قافلے کو پنجاب میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
دوسری جانب کراچی میں صدر عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے باہر کراچی سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین نے بھی دھرنا دے رکھا ہے۔ ان میں سے ایک خاتون کا کہنا ہے کے انکے شوہر انجینئر ممتاز حسین ڈیڑھ برس سے لاپتہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انکے خاوند کو کوئٹہ سے کراچی آتے ہوئے راستے میں بس سے اتار کر نامعلوم افراد کہیں لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ہر دروازہ کھٹکٹایا، ہر طرح سے کوشش کی، ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی، ایف آئی آر کٹوائی، سب جگہ ڈھونڈا، تمام مقتدر اعلیٰ اداروں سے رجوع کیا، چیف جسٹس کے دورہ کراچی پر ان سے باقاعدہ ملاقات کی، ان کے ہاتھ میں درخواست دی، لیکن کچھ معلوم نہیں ہو پا رہا۔ آخر میں مجبور ہو کر صدر کے گھر کے باہر دھرنا دیا ہے۔ معصومہ ممتاز کا کہنا ہے کہ ان کی ساس، بیٹے کے جدائی میں ذہنی مریض بن چکی ہیں۔ وہ ہر وقت پریشان رہتی ہیں، اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی رہتی ہیں، گھر کے دروازے بند نہیں کرنے دیتیں کہ نجانے کب میرا بیٹا آ جائے۔
اسی طرح کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں اپنے گھر سے اٹھائے جانے والے 18 سالہ علی حیدر رضوی کے والد علمدار علی کے مطابق ان کے بیٹے کو ساڑھے تین سال قبل گھر والوں اور محلے داروں کے سامنے لے جایا گیا تھا۔ علمدار علی کے مطابق 15 سے 20 مسلح افراد جو عام لباس پہنے ہوئے تھے ان کے گھر آئے اور بیٹے کو ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد پولیس کی دو موبائل گاڑیوں اور تین سفید موٹر سائیکلوں پر آئے تھے۔ جب وہ لینے آئے تو میں نے پوچھا کہ اس نے کیا جرم کیا ہے۔ جواب میں انہوں نے ہم پر بندوقیں تان لیں، ہمیں کمرے میں بند کر دیا اور کہنے لگے اگر آپ نے کچھ کیا تو گولی مار دیں گے۔ یوں وہ میرے بچے کو لے کر چلے گئے جس کے بعد سے آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔
