گوادر میں احتجاج کے بعد خاردار باڑ لگانے کا کام رک گیا


حکومت نے گوادر میں مقامی آبادی کی مخالفت اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد شہر کے ارد گرد آہنی باڑ کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔
بتایا گیاہے کہ عوامی احتجاج کے بعد جب باڑ کی تعمیر کا معاملہ بلوچستان ہائی کورٹ میں پہنچ گیا تو وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو حکومتی پارلیمانی وفد کے ہمراہ گوادر پہنچے جہاں انہوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ کھلی کچہری میں اس مسئلے پر عوامی تحفظات کو سنا۔ انہوں نے گوادر میں باڑ کی سائٹ کا بھی معائنہ کیا۔ بعد ازاں ضیاء لانگو نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات پر باڑ کی تعمیر پر مزید کام روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں کئی ناخوشگوار واقعات ہوچکے ہیں اس لیے شہر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کےلیے باڑ کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑ کی تعمیر کا منصوبہ گوادر کے ماسٹر پلان کا حصہ ہے مگر اب اس منصوبے کوعوامی تحفظات دور کرکے ہی آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے شہریوں کی باڑ سے متعلق تجاویز تحفظات پر پارلیمانی وفد اپنی سفارشات جلد وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کرے گی۔ گوادر میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جائے گا جو عوامی خواہشات کے برعکس ہو۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ٹوئٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اور اپوزیشن کی جماعتیں اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر سیف سٹی منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار تھا ہم نے اس پر کام کا آغاز کیا۔ اپوزیشن اس منصوبے کو باڑ کا نام دے رہی ہے یہ باڑ نہیں بلکہ سکیورٹی انتظامات کے تحت کیے جانے والے اقدامات ہیں۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ یہ گوادر سے باہر پہاڑی، ویران اور غیر روایتی راستوں سے آمدروفت روکنے کےلیے عارضی باڑ کا کام تھا۔ ہر جگہ انسانی طور پر نگرانی نہیں کی جاسکتی۔ یا تو ہم یہ انتظامات کریں یا پھر گوادر کے ارد گرد ہر جگہ پولیس، لیویز ایف سی اور فوج کی 50 چیک پوسٹیں بنا دیں جو ہر جگہ لوگوں کو روک کر پوچھتے کہ کہاں جا رہے ہیں جس سے شہریوں کو تکلیف پہنچتی۔
یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی اس منصوبے سے متعلق بلوچستان بار کونسل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے مرکز کی حیثیت رکھنے والے گہری بندرگاہ کے حامل بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حکومت نے رواں ماہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر آہنی دیوار یا باڑ کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا۔ یہ باڑ گوادر کے تقریباً 24 مربع کلومیٹر کے اس مرکزی حصے کے گرد لگائی جانی تھی جس میں گوادر پورٹ، فری زون اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں اور شہر کی آبادی کی اکثریت بھی اسی حصے میں آباد ہے۔ اس منصوبے کے تحت گوادر کے گرد باڑ لگانے کے بعد شہر میں داخلے کےلیے صرف دو دروازے بنائے جانے تھے۔ ان دروازوں پر اسکینر مشینیں نصب کرنے کے ساتھ ساتھ خفیہ کیمرے بھی نصب کیے جانے تھے تاکہ ہر آنے جانے والے شخص کی نگرانی کی جاسکے۔ اس اقدام سے گوادر کے باسی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتے۔ گوادر کے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم پرست جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی بھی باڑ منصوبے کے خلاف سراپا احتجاج تھیں۔ مقامی آبادی اور گوادر سمیت بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے شہریوں کی آزادانہ نقل و حمل پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ دنیا میں کسی شہری آبادی کو آہنی باڑ لگا کر محفوظ بنانے کے ایسے کسی منصوبے کی مثال نہیں ملتی۔ مقامی آبادی کو خدشہ تھا کہ چینی مفادات کے تحفظ کے نام پر مقامی آبادی کو غلامی کا احساس دلایا جا رہا ہے اور انہیں اپنے علاقے سے بے دخل کرنے سازش کی جارہی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ گوادر میں خاردار باڑ لگائی جارہی ہے تاکہ کوئی مقامی شہری اندر نہ آسکے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ کیسی ترقی ہے جس میں یہاں کے مقامی باشندوں کو اپنی سرزمین میں داخلے کی اجازت نہیں ہے؟۔ سردار اختر مینگل اسے ترقی نہیں بلکہ استحصال قرار دیا جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گوادر اس سے قبل عمان کا حصہ بھی رہا ہے جسے پاکستان نے 1958 میں عمان سے خرید کر اپنا حصہ بنایا۔ یہاں 2002 میں گوادر کی بندرگاہ پر کام شروع ہوا جس کا افتتاح پرویز مشرف نے کیا۔ جہاں گوادر شہر کے گرد آہنی باڑ لگانے کے عمل کی سیاسی جماعتیں مخالفت کررہی ہیں۔
دوسری جانب نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر سینیٹر میر کبیر کا کہنا تھا کہ حکومت سکیورٹی کو جواز بنا کر گوادر شہر کو عملاً کنٹونمنٹ میں تبدیل کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس عمل کو رد کرتے ہیں اور اسے عوام کی نقل و حرکت پر پابندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button