لاہور پولیس کا نیا سربراہ ڈوگر بھی کرپٹ اور نااہل نکلا

وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے پر ناکامی کے بعد ٹرانسفر ہو جانے والے عمر شیخ کی جگہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے غلام محمد ڈوگر نامی جس پولیس آفیسر کو نیا سی سی پی او لاہور لگایا یے اس کو ماضی میں کرپشن اور قبضہ کرنے پر سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے ڈی آئی جی آپریشنز کے عہدے سے ہٹا کر کھڈے لائن لگا دیا تھا۔ 2012 میں غلام محمد ڈوگر کو قبضہ مافیا کا حصہ ہونے پر سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے نہ صرف معطل کر دیا تھا بلکہ یہ حکم بھی دیا تھا کہ اسے مستقبل میں کوئی بڑی پوسٹنگ نہ دی جائے جسے استعمال کرکے ڈوگر مزید کرپشن یا قبضے کرے۔ لیکن اب وزیراعلی عثمان بزدار نے غلام محمد ڈوگر کو کئی برسوں بعد یہ سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمر شیخ کی طرح داغ دار ماضی کے حامل نئے سی سی پی اور لاہور ڈوگر بھی اپنی بد زبانی، بد تمیزی اور کرپشن کی وجہ سے محکمہ پولیس میں بدنام ہیں اور ان کا مزاج اور لہجہ بھی عمرشیخ سے مختلف نہیں۔ ڈوگر کو 2012 میں ایک اوور سیز پاکستانی کی زمین پر قبضہ کرنے اور مالکان کو ہراساں کرکے اسکی زمین ہتھاینے کی کوشش کرنے کے الزامات پر معطل کیا گیا تھا۔ تب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے ایک انکوائری رپورٹ میں قصوروار قرار پانے کے بعد آئی جی پنجاب کو یہ حکم جاری کیا تھا کے ڈوگر کو نہ صرف معطل کیا جائے بلکہ کھڈے لائن لگا دیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق نئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر پر 2012 میں اوورسیز پاکستانی ڈاکٹر طارق محمود کی زمین پر قبضہ کرنے کا لزام لگا۔ ڈوگر نے اوورسیز پاکستانی کی زمین ناجائز طور پر اپنے گھر کے رقبے میں شامل کر لی تھی۔ غلام محمود ڈوگر اس وقت بطور ڈی آئی جی آپریشنز خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ جب تمام تر کوششوں کے باوجود ڈوگر نے طارق محمود کی زمین کا قبضہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے تب کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رابطہ کیا جنہوں نے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کو معاملے کی ایک مفصل انکوائری کرنے کا حکم جاری کیا۔
ڈاکٹر طارق محمود اور انکی اہلیہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ غلام ڈوگر نے ان کے گھر کے ساتھ والی زمین زبردستی اپنے گھر میں شامل کرلی اور اس پر قبضہ کر کے تعمیر شروع کر دی یے اور یہ سب تب ہوا جب وہ ملک سے باہر تھے۔ اسکے علاوہ غلام ڈوگر نے زمین کے اصل مالکان کو ڈرا دھمکایا اور انکے خلاف جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروائیں۔ ڈاکٹر طارق اور ان کی اہلیہ کی درخواست پر آئی جی پنجاب نے میجر مبشر کی سربراہی میں بھی ایک اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب دونوں کی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیموں نے جائے وقوعہ کے دورے اور فریقین کے بیانات قلمبند کر کے اپنی اپنی رپورٹیں مرتب کیں اور یہی نتیجہ نکالا کہ غلام محمد ڈوگر نے طارق محمود کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ تحقیقات میں مکمل طور پر قصور وار ثابت ہونے پر وزیر اعلی شہباز شریف نے غلام محمد ڈوگر کو معطل کردیا تھا تھا۔
لہذا ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک کرپٹ اور نااہل سی سی پی او کو بدل کر دوسرے کرپٹ اور نااہل شخص کو لاہور پولیس کا سربراہ بنا دینے سے نہ تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گی اور نہ ہی لاہور پولیس کا مورال بہتر ہونے کا امکان ہے جو کہ سی سی پی او عمر کے دور میں اور بھی گر گیا ہے۔
