متنازع فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کی یوٹیوب پر ریلیز کا اعلان

معروف ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے اپنی متنازع اور پابندی کا شکار فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کو آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پر ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے، فلم کو کھوسٹ فلمز کے پلیٹ فارم سے ریلیز کی جائے گی۔
سرمد کھوسٹ نے بدھ کو فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اعلان کیا کہ وہ ’زندگی تماشا‘ کو جمعے کو یوٹیوب پر آفیشل طور پر ریلیز کریں گے، ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میری طرف سے آپ سب کو یوم آزادی مبارک، میں بھی اس مہینے کچھ آزاد کرنا چاہتا ہوں، جو آزاد کر رہا ہوں، اس کا نام ہے زندگی تماشا، میری فیچر فلم۔سرمد کھوسٹ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ انڈیپینڈنٹ فلم (یعنی کسی پروڈکشن ہاؤس کے بغیر) بنائی تھی۔ ایک ایسی کہانی جو میرے دل کے بہت قریب تھی، ایک ایسی کہانی جو حساسیت کے ساتھ بنائی گئی تھی۔’زندگی تماشا‘ کے ہدایت کار نے مزید کہا کہ فلم کو مل کر سنیما میں دیکھنے کا تجربہ نہیں ہوگا، یہ تجربہ آپ کے لیے بنایا گیا تھا، آپ کے محسوس کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اب آپ یہ تجربہ یوٹیوب پر کر سکتے ہیں، ہم فلم کو اپنے یوٹیوب چینل کھوسٹ فلمز پر اپلوڈ کرنے والے ہیں۔اس کے علاؤہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’زندگی تماشا‘ کا ڈائریکٹرز کٹ ورژن یعنی بغیر سینسر کیا گیا پرنٹ ویڈیو پلیٹ فارم ’ویمیو‘ پر ویڈیو آن ڈیمانڈ کی صورت میں موجود ہوگا۔ یہ فلم 24 جنوری 2020 کو پاکستانی سنیما گھروں میں ریلیز ہونا تھی تاہم اس کی ریلیز سے پہلے سیاسی اور مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلم مخالف مظاہروں کا اعلان کیا جس کے بعد فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی۔فلم کے بارے میں ماضی میں بی بی سی اردو کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سرمد کھوسٹ نے بتایا تھا کہ ان کی فلم کسی فرقے یا مسلک کے بارے میں نہیں بلکہ اس فلم کا مرکزی موضوع صرف عدم برداشت ہے، (اس فلم کا مرکزی کردار) ایک پراپرٹی ایجنٹ ہے، وہ ایک باپ ہے، وہ ایک لاہوری پنجابی ہے، وہ ایک خیال رکھنے والا شوہر ہے اور وہ شوقیہ طور پر، پیشہ وارانہ طور پر نہیں، ایک نعت خواں بھی ہے۔ان کا کہنا تھا یہ ایک مکمل جیتے جاگتے زندہ کردار کی کہانی ہے۔ پھر اس کی زندگی میں ایسا بہت معمولی سا کچھ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان تمام پہلوؤں پر تنازعات اٹھتے ہیں، اس کے کام پر تنازع ہوتا ہے، جہاں وہ شوقیہ طور پر کام کرتا ہے اس کے حوالے سے بھی تنازع ہوتا ہے مگر زیادہ اور مرکزی طور پر یہ اس کے ذاتی زیاں کی کہانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی فلم کا مرکزی کردار ذاتی عدم برداشت کا شکار تو ہوتا ہی ہے، وہ ہمسایوں کی عدم برداشت کا بھی شکار ہوتا ہے اور سائبر سپیس میں بھی عدم برداشت کا شکار ہوتا ہے۔یوٹیوب پر کھوسٹ فلمز کے آفشیل چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ آرٹ کا یہ ماسٹر پیس اور فنکار اس محبت، احترام، تعریف اور قبولیت کو حاصل کرنے جا رہے ہیں جو روایتی ریلیز کے طریقہ کار کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ایک اور صارف حمل خان نے لکھا کہ ’ اس نے مجھے واقعی اداس اور مایوس کیا لیکن ساتھ ہی مجھے سکون بھی محسوس ہوا کہ آخر کار آپ اسے آزاد کرنے والے ہیں۔ مجھے آپ پر فخر ہے سرمد کھوسٹ، سارہ خان نامی صارف نے لکھا کہ سرمد مجھے آپ کیلئے دکھ ہو رہا ہے، آپ بہت اچھے طریقے سے اس سے نمٹ رہے ہیں، آپ کی بہت ہی دلیرانہ کوششوں میں آپ کے لیے مزید کامیابی کی دعائیں۔
