لاہورہائیکورٹ: مریم نواز کو ایف بی آر کی جانب سے ملنے والے نوٹسز معطل

لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کو ایف بی آر کی جانب سے بھجوائے گئے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹسز پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے فیڈرل بیورو آف ریونیو کو آئندہ سماعت پر جواب کرانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امیر بھٹی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے لیگی رہنما مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی۔ مریم نواز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے 6 لاکھ 57 ہزار کے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹسز بھجوائے گئے ہیں، قانون کے مطابق سارے ٹیکسز ادا کر رہی ہوں، تمام ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود ایف بی آر نے ریکوری کے نوٹسز بھجوا دئیے ہیں، عدالت ایف بی آر کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹسز بھی کالعدم قرار دے۔عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایف بی ار کو مریم نواز کے بھجوائے گئے نوٹسز پر عمل درآمد روک دیا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایف بی آر کے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔مریم نواز نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف بی آر کی جانب سے 6 لاکھ 57 ہزار کے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹسز بھجوائے گئے ہیں، جب کہ میں قانون کے مطابق سارے ٹیکسز ادا کر رہی ہوں، تمام ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود ایف بی آر نے ریکوری کے نوٹس بھجوائے ہیں، جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے بھی ریکارڈ کا درست جائزہ لیے بغیر درخواست خارج کردی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ ایف بی آر کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹسز اور سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔ مریم نواز نے اپنی درخواست میں ایف بی آر سمیت دیگر کو فریق بنایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button