مفاہمت پسند نوازمزاحمتی بیانیے کی طرف کیسے آئے؟

نواز شریف کو عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف نے ملکر حکومت اور سیاست سے منفی کیا تو پہلی بار نون لیگ کی جانب سے ’مجھے کیوں نکالا‘ کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کا پرچار سُنا۔’سویلین بالادستی‘، ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ گونجا اور سیاسی لغت کے یہ نئے الفاظ میڈیا اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی سول سوسائٹی کو متاثر کیے بنا نا رہ سکے۔ یوں یہ سیاسی فیشن کا حصہ بنے اور ایسے ایسے لوگ ان الفاظ کا بے دریغ استعمال کرنے لگے جو خود مارشل لاؤں کی آغوش میں پلے تھے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ بلند ہوا تو جی ٹی روڈ پر بریکیں لگیں اور جرنیلی سڑک پر جرنیلوں کے خلاف سیاست کا نئی طرح سے آغاز ہوا۔ اس سے قبل پنجاب سے باہر سیاسی جماعتیں اس طرز کے بیانیوں پر سزا بھگت چکی تھیں مگر شاید آج بھی یہ حق صرف پنجاب تک ہی محدود سمجھا گیا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے بقول میاں نواز شریف نے انتخابات سے قبل جنرل فیض کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی نشاندہی کی اور انتخابات کے بعد جرنیلی سڑک پر جنرل باجوہ کے گھر کے سامنے اُنھیں للکارا تو واویلا مچ گیا۔ جماعت کے کئی لوگ سٹیج سے نیچے چلے آئے، چند نے منہ لپیٹ لیے اور کچھ پتلی گلی سے نکل لیے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی خائف اور نون لیگ کے صدر بھی پشیمان دکھائی دئیے۔یوں لگا کہ جی ٹی روڈ پر انقلاب آ چکا مگر یہ حالات چند ہفتے ہی برقرار رہے، بیانیے کے ترازو میں مفادات کا بوجھ ڈالا گیا اور ترازو جنرل باجوہ کے حق میں ہی جھُک گیا۔ جنرل باجوہ کی توسیع کے تاریخی ووٹ سے مزاحمتی سیاست کا انجام اور مصالحتی سیاست کا آغاز ہوا۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق یہی حال دیگر جماعتوں کا بھی تھا۔ مقتدرہ کے آسمان پر بدلیوں میں چھپے انقلابی سورج کمپرومائزز کو مصالحانہ سیاست قرار دیتے رہے جبکہ عوام بیانیوں کی دھوپ چھاؤں دیکھتے رہے، کبھی ایک خاموش تو کبھی دوسرا چُپ ہوتا رہا۔۔۔ کبھی مفاہمت آگے تو کبھی مزاحمت، کبھی اینٹی تو کبھی پرو۔ میرا جنرل میری مرضی، میری سیاست میرا بیانیہ کا چرچا ہوتا رہا۔دوسری جانب عوام مہنگائی میں پس گئے، ترقی کی شرح گھٹ گئی، تقریباً دس کروڑ غربت کی ،لکیر سے نیچے چلے گئے، فکر روزگار، فکر معاش بے روزگاروں کے کلیجے کھا گئی مگر سیاست مصلحت اور مفادات کے نرغے میں رہی۔ نظریے بیانیوں کی بھینٹ چڑھ گئے جبکہ عوام کی نبض سے سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہٹتا چلا گیا۔
عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہو گا کہ اب بات بیانیوں سے نہیں بنے گی بلکہ معاشی پروگرام اور ایجنڈا عوام کو دینا پڑے گا۔ یہ درست ہے کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی مداخلت نے ملک کو ناقابل یقین نقصان پہنچایا مگر ساتھ ہی اس بات کا ادراک بھی ضروری ہے کہ عوام کو فریب سے نکال کر سچ بتایا جائے، حقائق سے آگاہ کیا جائے اور عوام کے دباؤ کو سیاسی نظام کے تابع کیا جائے ورنہ انتخابات انتشار کو جنم دے سکتے ہیں جسے روکنے کے لیے سیاسی راہنماؤں کو عوام میں اُترنا ہو گا۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف نون لیگ کے صدر شہباز شریف کے سامنے پرواز بھرنے کو تیار ہیں مگر میاں صاحب یاد رکھیں کہ وہ ایک ایسے پاکستان میں واپس آ رہے ہیں جو 2018 سے یکسر مختلف ہے۔نون لیگ کا گڑھ پنجاب اور پنجاب کی جرنیلی سڑک اب جرنیلوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن رہی ہے۔ معیشت ڈراؤنے خواب کی مانند آنکھوں کی تعبیریں لوٹ رہی ہے یا یوں سمجھیے کہ سیاست اب معیشت کی محتاج ہے۔سیاست کے تقاضے مختلف ہو چکے ہیں، رنگ بدلتے بیانیے اب اپنے رنگ بچا لیں تو بڑی بات ہوگی۔ نوجوان ووٹر تبدیلی کے اب خواب تو نہیں دیکھتا مگر روایتی سیاست سے متنفر ضرور ہو چکا۔ خاندانی سیاست کی پذیرائی اب ممکن نظر نہیں آتی۔
عاصمہ شیرازی کے بقول نون لیگ کے پاس شاید یہ آخری موقع ہے کہ اب اُن کے لیے گلیاں سُنجیاں ہو رہی ہیں اور رانجھے کو راضی کرنے کی کوششیں بھی شد و مد سے جاری ہیں۔ سیاسی حریف اپنی جان بچانے کی کوششوں میں ہیں اور عمران خان منظر سے غائب دکھائی دیتے ہیں۔تاہم عمران خان سیاسی حقیقت ہیں آج نہیں تو کل اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح یوٹرن لے سکتی ہے۔ اگر کبھی کی راندہ درگاہ نون لیگ قبولیت کے پیمانے پر آ سکتی ہے تو تحریک انصاف کیوں نہیں؟ میاں صاحب!سوچ سمجھ کر بیانیہ بلکہ منشور اور پروگرام دیجیے کیونکہ موقع اور مرضی سے بنائے گئے بیانیے کی گنجائش اب کم ہے۔
