ملزم خود پر عائد الزام کی انکوائری خود کیسے کرسکتا ہے؟

سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی واقعہ کے حوالے سے جن پر الزامات ہیں وہ ہی انکوائری کر رہے ہیں، حالانکہ ملزم خود پر عائد الزام کی انکوائری خود کیسے کرسکتا ہے؟ این آر او ہم نہیں، بلکہ وہ ہم سے مانگ رہے ہیں اور ہم انہیں این آر او نہیں دے رہے۔
لاڑکانہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں اضطراب اور بے چینی کی صورتحال ہے، ملک میں کوئی حکومت نہیں، انتظامی ڈھانچہ بکھرا ہوا ہے، دو روز قبل سندھ پولیس کا ردعمل اس بات کی نشاندہی ہے کہ پانی سر سے گزر چکا ہے، کراچی واقعے پر وفاق فرار حاصل نہیں کرسکتا، جنہیں ذمہ دارقرار دیا جا رہا انکوائری بھی وہی کریں گے، سندھ حکومت نے انکوائری کو قبول کیا ہے لیکن سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کو وفاقی حکومت کے ہتھکنڈے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں انتشار بڑھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ ضمانتوں پر ہیں ان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں جو کچھ ہوا اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ملک میں انتشار بڑھے گا، اشتہاری ملزم سے ایف آئی آر کٹوائی گئی۔انہوں نے کہا کہ ’حکمرانوں کو عام آدمی کا احساس ہی نہیں، ان کی نااہلی سے ملک کی معیشت تباہ ہوگئی اب ہمیں ملک کو بچانا ہے، ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور اس کو آگے لے کر جائیں گے‘۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے طے کرنا ہے کہ ہم نے کس راستے سے جانا ہے اور جلسے میں کس طرح شریک ہونا ہے، سیکیورٹی کا مسئلہ ہمارا نہیں، اگر وہ اسے نہیں پورا کرسکتے تو ہمیں بتائیں تاکہ ہم اپنے رضاکاروں کو میدان میں اتار کر انہیں بتائیں کہ جو قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات لے کر نہیں کرسکتے وہ ہمارے رضاکار کرسکتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جلسے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے، اس میں اگر کی گنجائش نہیں، جہاں تک استعفے کا مسئلہ ہے ہمارے اعلامیے میں دیے گئے چند آپشنز میں سے یہ آپشن بھی موجود ہیں‘۔
پولیس افسران کے چھٹیوں پر جانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس نے یکطرفہ طور پر خود رد عمل دیا ہے، افسران خود کو ذہنی دباؤ میں سمجھتے ہیں، یہ مسئلہ سندھ کا نہیں بالکہ پورے ملک میں یہی حال ہے کہ سول انتظامیہ کے اختیارات پر فوجی افسران کی گرفت موجود ہے، اس روش سے دستبردار ہونا چاہیے تاکہ ایک ملک ہوکر ہم آگے چل سکیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کا مستقل مسئلہ ہے اور مسلسل لوگ اپنے پیاروں کے لیے اسلام آباد میں کئی مرتبہ اکٹھے ہوئے ہیں تاہم سخت دل لوگوں کو رحم نہیں آرہا، اگر وہ ریاست کے دشمن ہیں تو آئین و عدالتیں موجود ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے کم از کم ان کے والدین کو تو معلوم ہوگا کہ اس کا جرم کیا تھا اور ان کے گھروں میں روز روز کے ماتم کا بھی خاتمہ ہوگا‘۔دھاندلی کے حوالے سے سوال کے جواب مین ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے تاہم وہ پھر بھی کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہاں صورتحال یہ ہے کہ جس کے پاس 30 فیصد ووٹ نہیں انہیں 70 فیصد اور جن کے پاس 70 فیصد ووٹ ہے انہیں 30 فیصد ووٹ دیا گیا ہے‘۔پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سی پیک کے فیصلوں سے متعلق ہم حکومت کو کھلواڑ کرنے نہیں دیں گے‘۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی وہ قیادت جن پر نیب مقدمات ہیں اور وہ ضمانت پر رہا ہیں ان کی ضمانتیں رد کروائی جا رہی ہیں، صورتحال ایسی نہیں کہ نیب کو برداشت کیا جا سکے، ہم جیلوں کی طرف رخ موڑنے کو تیار ہیں، ہم ساری زندگی مارشل لاء سے لڑنے کے عادی ہیں، پی ڈی ایم ابتدائی طور پر ایک تحریک ہے، نادیدہ قوتوں کی بالا دستی کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ آمرانہ قوت کو اس طرح کا کھلواڑ کرنےکی اجازت نہیں دیں گے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ میری شرافت مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں وفاق کے الزامات کا جواب دوں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے ملک میں انتشار بڑھے گا، این آر او ہم نہیں وہ ہم سے مانگ رہے ہیں اور ہم انہیں این آر او نہیں دے رہے، ہم پوری قوم کےجمہوری حق کی جنگ لڑرہے ہیں، حکمرانوں کی نااہلی سے معیشت متاثر ہوئی، اس کی بحالی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ سربراہ پی ڈی ایم نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا دورہ گلگت بلتستان پہلے سے شیڈول تھا، ہم پھر بھی بلاول بھٹو زرداری سے رابطے میں ہیں، کراچی جلسے میں نواز شریف نے خود تقریر نہیں کی، اورکوئٹہ میں بھی ان کی مرضی ہے کہ وہ تقریر کرتے ہیں یا نہیں۔
