موقع ملا تو مہوش حیات پر’لاڑکانہ نہیں جاؤں گی‘فلم بناؤں گا

اداکار، میزبان و پروڈیوسر فہد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں زندگی میں کبھی موقع ملے تو وہ اداکارہ مہوش حیات کی زندگی پر ’میں لاڑکانہ نہیں جاؤں گی‘ کے نام سے بنائیں گے۔ٹوئنٹی تھری نیوز‘ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فہد مصطفیٰ نے خود کو ’ہاٹ‘ نہیں بلکہ’کیوٹ‘ قرار دیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ جب وہ پہلی بار اپنے گیم شو ’جیتو پاکستان‘ کی ریکارڈنگ کروا رہے تھے، تب ان سے کئی غلطیاں ہوئیں۔اداکار نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں اچھا ڈانس نہیں آتا اور وہ ڈانس کرتے وقت ’بے وقوفوں‘ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔اداکاری، میزبانی اور پروڈیوسری میں سے انتخاب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کسی ایک شعبے کا انتخاب نہیں کیا اور کہا کہ انہیں تینوں شعبوں سے لگاؤ ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ انہیں آج تک اپنا 2009 کا ڈراما ’آتشی‘ سب سے بہتر لگتا ہے، کیوں کہ انہوں نے مذکورہ ڈرامے میں ایک بنگالی کا کردار ادا کیا تھا جو بہت ہی مشکل تھا۔اداکار نے جاوید شیخ کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ’حس مزاح‘ سب سے منفرد اور بہتر ہے جب کہ واسع چوہدری کو جنرل نالج پر عبور حاصل ہے۔

فہد مصطفیٰ نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا ٹھیک طرح سے استعمال کرنا نہیں آتا مگر وہ اسے استعمال کرنے پر عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اداکار نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر انہیں کبھی کسی رومانوی فلم میں کام کرنے کی پیش کش ہو اور ان سے اپنی مرضی کی ہیروئن بھی پوچھی جائے تو وہ ہولی وڈ اداکارہ اسکارلٹ جانسن کے ساتھ کام کرنا پسند کریں گے۔انہوں نے موجود دور کے ملک کے سب سے بڑے سپر اسٹار کے سوال پر وزیر اعظم عمران خان کو ’سپر اسٹار‘ قرار دیا۔

پروگرام کے ایک سلسلے میں فہد مصطفیٰ نے کہا کہ مہوش حیات اسکرین پر ان کا پہلا پیار رہی ہیں جب کہ اگر انہیں اداکارہ کی زندگی پر بائیوگرافی فلم بنانے کا موقع ملا تو وہ اس کا نام ’میں لاڑکانہ نہیں جاؤں گی‘ رکھیں گے۔اسی طرح انہوں نے بتایا کہ اگر انہیں اپنی زندگی پر بائیوگرافی فلم بنانے کا موقع ملا تو وہ اس کا نام ’کالے سے گورے تک‘ رکھیں گے اور اس میں اپنے کردار کے لیے بلال بلال عباس کو کاسٹ کریں گے۔

خیال رہے کہ فہد مصطفیٰ نے 2004 میں اداکاری سے کیریئر کا آغاز کیا تھا، ان کے والد صلاح الدین تنیو ماضی کے مقبول اداکار ہیں، ان کے والد کا تعلق لاڑکانہ سے ہی ہے۔فہد مصطفیٰ نے کیریئر کے ابتدائی سالوں میں ہی ڈراما لکھاری ثنا سے 2006 میں شادی کی تھی اور انہیں ایک بیٹا اور بیٹی بھی ہیں۔فہد مصطفیٰ نے اب تک تین درجن کے قریب ڈراموں اور ایک درجن کے قریب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جب کہ انہوں نے متعدد ڈرامے اور فلمیں بھی پروڈیوس کر رکھی ہیں۔فہد مصطفیٰ اے آر وائی پر 2014 سے ’جیتو پاکستان‘ نامی گیم شو بھی کرتے آ رہے ہیں جو ملک کا مقبول ترین شو ہے۔

Back to top button