مولانا طارق جمیل بھی عمر شیخ جیسی گندی سوچ کے حامل نکلے

ہر پاکستانی حکمران کی خوشامد اور چاپلوسی کی لت میں مبتلا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے شعبدے باز مولانا طارق جمیل ایک مرتبہ پھر اپنے ایک بونگے بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
موٹر وے گینگ ریپ سانحے کے بارے میں مولانا طارق جمیل نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے حسب توقع سارا مدعا پاکستان میں مخلوط نظام تعلیم پر ڈال دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ جب پٹرول اور آگ کو اکٹھا کیا جائے گا تو پھر آگ تو لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط نظام تعلیم کے فروغ سے پاکستان میں بے حیائی بڑھ رہی ہے اور اخلاقی اقدار کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر مولانا کے ناقدین نے بجا طور پر انہیں یاد دلایا کہ دینی مدارس میں تو مخلوط نظام تعلیم نہیں پھر مدارس کیوں قوم لوط کا گڑھ بنے ہوئے ہیں جہاں شہوت کے مارے مولویوں کے ہاتھوں بچوں کا استحصال پاکستان بننے سے اب تک جاری ہے۔
اہنے بیان میں مولانا نے براہ راست عورتوں کو بے حیا قرار نہیں دیا کیوںکہ وہ ایک چالاک کھلاڑی ہیں۔ وہ ہمیشہ اجتماعی بے حیائی کا رونا روتے ہیں۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس معاشرے میں بے حیائی کا بوجھ عورت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ مرد جینز پہن لے تو خیر ہے، عورت کو اجازت نہیں۔ مرد سگریٹ پئے تو بری عادت۔ عورت سگریٹ پئے تو بری عورت۔ مرد کا معاشقہ اس کے ’مرد‘ ہونے کی نشانی ہے۔ عورت کسی کو دل میں بھی پسند کرنے لگے تو وہ اخلاق باختہ ٹھہرتی ہے۔ اس موازنے کی ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ اس لئے جب مولانا ’بے حیائی‘ کی بات کرتے ہیں تو نہ صرف وہ عورت کو ریپ کلچر کی جڑ قرار دیتے ہیں بلکہ اس داغدار سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی طرح یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رات کو موٹروے پر سفر کرنے والی عورت اگر بے حیا نہ ہوتی تو ریپ نہ ہوتا۔اسی طرح مولانا کی بے حیائی کی تعریف بھی سرے سے غلط اور منافقانہ ہے۔ منافقانہ اس لئے کہ انہوں نے کبھی مدراس میں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات پر لب کشائی نہیں کی۔ غلط اس لئے کہ انہیں استحصال، طبقاتی جبر، منافع خوری، ریاستی جبر اور پدر شاہی فحش نظر نہیں آتے۔
جس دن سے موٹروے ریپ کا واقعہ سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر ایک غم و غصے کی لہر ہے۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیانات نے اس غصے کو مزید انگیختہ کر دیا کہ جب آپ اتنے بڑے سانحے پر اسی انسان کو موردِ الزام ٹھہرانے لگیں کہ جو دراصل اس بربریت کا نشانہ بنا ہو تو پھر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آپ اس معاملے میں مجرموں تک پہنچ بھی جائیں، تب بھی معاشرے میں ایسے مزید جرائم کا راستہ تو بہرحال آپ نے کھول ہی دیا ہے۔ جب پست ذہنیت کے لوگوں کو یہ لگنے لگے کہ رات کے وقت اکیلی خاتون کا گھر سے باہر ہونا دراصل اس خاتون کی غلطی ہے اور وہ جرم کو خود دعوت دے رہی ہے اور پولیس کے سربراہ بھی یہی بیان دے رہے ہوں تو پھر ایسے واقعات ہونا تو منطقی نتیجہ ہے۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری تھی کہ وہ لوگ جو عام طور پر قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ایسے موقع پر غائب کیوں ہو جاتے ہیں۔ بالآخر قوم کی اخلاقی اقدار کے ایسے ہی ایک ٹھیکیدار مولانا طارق جمیل نے موٹروے واقعے کے دس روز بعد اس پر ایک ویڈیو بیان میں تبصرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مسئلے کا حل پیش کرنے کی بجائے وہی بات کی ہے جس کی ان سے توقع تھی۔ انہوں نے ساری ذمہ داری پاکستان کے مخلوط نظامِ تعلیم پر ڈال دی ہے اور کہا ہے کہ جب لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھیں گے تو پھر موٹروے جیسے واقعات ہونا تو لازمی سی بات ہے۔ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مخلوط تعلیم کے نظام نے یقیناً معاشرے میں بے حیائی پھیلائی ہے۔
جس دن سے یہ واقعہ پیش آیا ہے، حیرت انگیز طور پر سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر ایک بہت بڑی تعداد نے مسئلے کی جڑ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والی کم از کم دو ارکانِ اسمبلی نے بھرپور انداز میں خواتین کا مقدمہ پیش کیا۔ شندانہ گلزار خان نے ببانگِ دہل ٹی وی پر بیٹھ کر کہا کہ زیادہ تر واقعات میں گھر کے مرد ہی خاتون کا ریپ کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی بھرپور انداز میں قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی اور کہا کہ خواتین کو گھر بٹھانے کی بات کرنے والے مرد خود کیوں گھر نہیں بیٹھ جاتے۔ اس بات پر سپیکر اسد قیصر ہنسے تو انہوں نے ان کو کہا کہ آپ ہنس رہے ہیں، آپ بطور ایک خاتون کے میرے غصے کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے نوجوان رہنما عطااللہ تارڑ نے ٹی وی پر کہا کہ ہماری تو گالیاں بھی خواتین سے ہمارے رشتوں کی بے حرمتی پر مبنی ہیں، ہم ریپ سے متعلق مذاق کرتے ہوئے ذرا نہیں کتراتے۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ارکان کی طرف سے ایسی باتیں آنا اس افسوسناک واقعے میں سے نکلنے والا ایک غیر منفی پہلو تھا۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جن کے لاکھوں کی تعداد میں یوٹیوب فین ہیں اور جو مسجدوں کے منبروں سے دن میں پانچ مرتبہ لوگوں کی اصلاح کر سکتے ہیں، ان کی سوئی آج بھی وہیں کی وہیں اٹکی ہوئی ہے۔ طارق جمیل کا یہ کہنا کہ مخلوط نظامِ تعلیم ریپ کی وجہ ہے، ایسے ہی ہے جیسے وزیر اعظم کا بیان کہ بالی وڈ کی وجہ سے ریپ تعداد میں بڑھ گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی و سماجی رہنما کس حد تک سطحی ذہنیت رکھتے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں پورن دیکھنے کا رجحان گذشتہ 20 سالوں میں کہیں زیادہ بڑھا ہے اور مخلوط نظامِ تعلیم شاید ہمیشہ ہی سے رائج ہے، وہاں بھی اس عرصے کے دوران ریپ کی تعداد میں 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ تو پھر دیکھنا ہوگا کہ وہاں کیا ٹھیک ہو رہا ہے جو یہاں نہیں ہو رہا۔ فرانس میں سیکس ایجوکیشن کی وجہ سے نابالغ لڑکیوں کے ریپ کی شرح دنیا میں سب سے کم ہوئی ہے تو کھوج لگانا ہوگا کہ ایسا کیسے ممکن ہو پایا ہے۔
حکمرانوں کی شان میں قصیدے پڑھ کر ہلکان ہونے والے مولانا طارق جمیل اپنے بیان میں یہ بھی بتانا بھول گئے کہ دینی مدارس میں کوئی مخلوط نظام تعلیم رائج نہیں لیکن وہاں شہوت زدہ مولویوں کے ہاتھوں معصوم بچوں کے ریپ کے واقعات کیوں عام ہیں؟ قصہ مختصر، مولانا کا تازہ بیان ان کی روایتی عورت دشمنی کا ایک اور اظہار ہے۔ انہیں اس بیان پر نہ صرف پاکستان کی عورتوں سے معافی مانگنی چاہئے بلکہ ایسے موضوعات پر بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے جن کے بارے میں ان کا علم انتہائی محدود ہے اور جہالت کی حدوں کو چھوتا ہے۔
