مولانا فضل الرحمن ڈرکے خاموش ہیں یا ناراض ہوکر؟

نومبر 2019 میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے والے مولانا فضل الرحمان ایک لمبے عرصے سے سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں اور ان کی سیاسی خاموشی کے حوالے سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیب کے ذریعے مولانا اور انکے ساتھیوں کے خلاف پرانے کیسز کھول کر انہیں دبا لیا ہے۔ دوسری طرف مولانا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ اگر پاکستان کی دونوں بڑی جماعتیں سڑکوں پر نہیں نکلتیں تو انہیں بھی ایسا کرنے کا کوئی شوق نہیں۔
یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بڑے طمطراق کے ساتھ نومبر 2019میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لیے دھرنا دے کر ملک کے سیاسی ماحول کو گرمایا تھا لیکن کئی ناقدین کے خیال میں جمعیت اب خود ٹھنڈی ہوگئی ہے۔
بعض سیاسی مبصرین اس ٹھنڈ کا تعلق جے یو آئی ایف کے کارکنان میں پائی جانے والی مایوسی سے جوڑتے ہیں اور کچھ کےخیال میں اسٹیبلشمنٹ کے خوف کی وجہ سے جمعیت نے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے اور اب وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو اس شدومد سے بیان نہیں کر رہی، جس طرح کے وہ گزشتہ برس نومبر میں کر رہی تھی۔ واضح رہے اس دھرنے میں مولانا فضل الرحمٰن اسٹیبلشمنٹ پر بھی خوب برسے تھے، جب کہ عمران خان کی بھی انہوں نے کھل کر مخالفت کی تھی۔ جے یو آئی ایف نے دھرنے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو بھی ایک طرح سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن اس دھرنے کے بعد سے اب تک مولانا کی سرگرمیاں کافی محدود رہی ہیں۔ گو کہ انہوں نے ابھی کچھ دنوں پہلے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ تاہم اب ان کی باتوں میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہ راولپنڈی کی طرف سخت گیری کے قائل نظر آتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے خوف نے جے یو آئی ایف کو خاموش کرا دیا ہے۔ ”دھرنے کے دوران ہی جے یو آئی ایف کے رہنما اکرم درانی اور دوسروں کو نیب نے تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔‘‘ ان کے خیال میں اکرم درانی اور ان جیسے دیگر مالی مدد گاروں نے ہی مولانا کو قائل کیا ہے کہ وہ اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بدلیں۔ ان کے بقول، ”اس بیانیے سے مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں، جس سے جمعیت کو مالی طور پر نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ نے سختیوں کا بھی اشارہ دیا ہوگا، جس نے جمعیت کو مجبور کیا کہ وہ اپنی آواز کو دھیما کرے۔‘‘
ویسے بھی مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کا اعلان تو کر دیا تھا لیکن پاکستان کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ آخری وقت میں ان کو دھوکا دے گئیں۔ مولانا نے اس کے باوجود دھرنا دیا لیکن ان کے سب سے بڑے حمایتی نواز شریف اس کی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر ملک سے باہر نکل گئے اور سیاست ٹھنڈی کردی۔
لہذا مولانا فضل الرحمن بھی سمجھ چکے ہیں کہ اگر پاکستان کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے سامنے کھڑی نہیں ہو پا رہیں تو وہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ تاہم اپنا دھرنا ختم کرتے وقت فیس سیونگ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن نے یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں کچھ حلقوں کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ بعد میں ایسا نہ ہونے پر جے یو آئی ایف کی صفوں میں مایوسی پھیل گئی۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ مولانا کو پہلی مایوسی پی پی پی اور ن لیگ کے رویے پر ہوئی اور دوسری مایوسی انہیں چوہدری برادران کے رویے اور بات چیت سے ہوئی۔ عثمان کے کاکڑ نے کہا، ”دھرنے کے ختم ہونے سے ان کے کارکنان میں بھی مایوسی پھیلی، جس کی وجہ سے ان کی سیاسی سر گرمیوں میں کمی آگئی۔‘‘
جمعیت کے سابق نائب امیر اور موجودہ ترجمان حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ڈری نہیں ہے اور نہ ہی ان کی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں۔ ”تاہم ہمارا یہ کہنا ہے کہ ہم نے عمران خان کا چہرہ قوم کے سامنے رکھ دیا اور اس کو لانے والوں کو بھی چہرو عوام پر آشکار کر دیا۔‘‘ حافظ حسین احمد کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس حکومت کے خلاف کیا کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پی پی پی ار ن لیگ کوئی تحریک چلاتے ہیں تو پھر ہم بھی سوچیں گے۔‘‘
حافظ حسین احمد نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان کی جماعت خوف یا مایوسی کا شکار ہے۔ ان کے بقول، ’’مولانا نے تو ابھی بھی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رکھا ہے لیکن ہم ہی تو سب کچھ نہیں کریں گے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاﹰ مسلم لیگ اور پی پی پی کو بھی آگے آنا چاہیے اور حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘
