’ میرے پاس تم ہو‘ کے اختتام پر شائقین کے دلچسپ تبصرے

بلاک بسٹر ڈرامہ سیریز ’میرے پاس تم ہو‘ کے اختتام پر شائقین کے دلچسپ تبصرے سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ کپتان کی طرح دانش بھی جانتا تھا کہ سکون صرف قبر میں ہے۔
ایک صارف نے لکھا ’لاہور ہائیکورٹ نے دانش کی موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خلیل الرحمان قمر کو نوٹس جاری کر دیا‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’دانش مرا نہیں بلکہ زندہ ہے، مناسب وقت میں سامنے لایا جائیگا‘

ایک منچلے نے لکھا ’دانش کو ٹائم سے لندن بھیجا جاتا تو بچ جاتا‘

ایک صارف نے مریم اورنگزیب کی تصویر لگاتے ہوئے ان کی جانب سے کہا ’میاں صاحب کا لندن علاج کروانے کا مذاق اڑانے والے بتائیں آج پاکستان میں اچھا ہسپتال ہوتا تو دانش بچ جاتا‘

ایک اور منچلے نے لکھا دانش کی موت کا ذمہ دار نواز شریف ہے۔ ن لیگ پینتیس سال میں ایک ایسا ہسپتال نہیں بنا سکی جہاں دانش کا علاج ہو سکتا ، ایک صارف نے تو یہ خبر بریک کردی کے
ہانیہ ٹیچر نے دانش کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا ہے کہ وہ اس کو خوابوں میں آکر ملا کرے گا۔ اس نے لکھا کہ ہانیہ رومی کے گھر گئی اور اس کو دانش کی انگوٹھی واپس لوٹاتے ہوئے کہا کہ تمہارا باپ خواب میں تمہیں ملنے آئے تو اسے کہنا جو مر گیا وہ مر گیا۔ میں اب شہوار سے پینگیں بڑھاوں گی۔
ایک من چلے نے لکھا کہ رومی نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کے خلاف میرے باپ کے قتل کا مقدمہ درج کروایا جائے جنہوں نے میرے باپ کو اس نازک وقت میں عامیانہ ڈائیلاگ بولنے پر مجبور کیا اور اس کے چہرے سے آکسیجن ماسک ہٹا دیا جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا اور اسے ڈائیلاگ بولنے منع تھے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ جس بھونڈے طریقے سے دانش نے مرنے کی ایکٹنگ کی اس سے بہتر ایکٹنگ تو پرویز مشرف نے کر لی تھی۔
ایک صارف نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ دانش کنیریا کی موت کا سب افسوس ہوا۔ اسکے جواب میں ٹویٹ کرتے ہوئے دانش کنیریا نے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کیا بکواس ہے؟ میں زندہ ہوں۔ لیکن صارفین کی جانب سے دانش کنیریا کی موت کی خبر دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ مقبول ترین پاکستانی ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ سوشل میڈیا پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق 24 اقساط پر مشتمل ڈرامہ ہر ہفتے کی شب نشر ہوا کرتا تھا لیکن عوام کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے آخری قسط ایک ہفتے کی تاخیر سے 25 جنوری کو نشر کی بلکہ اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے بڑھا کر دو گھنٹے کیا اور اسے سینما گھروں میں بھی دکھایا گیا جسے دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد پہنچی۔
گزشتہ روز خلیل الرحمان قمر کے لکھے اس ڈرامے کی آخری قسط میں مرکزی کردار دانش کی موت نے کئی لوگوں کو غم زدہ کیاکچھ اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکے تو بعض نے ڈرامے کے اختتام پر مایوسی کا اظہار کیا۔
