میڈیکل کالجز کا داخلہ امتحان دوبارہ لینے کا مطالبہ

پی ایم اے نے کہا کہ طلبا کا ایم ڈی کیٹ کے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ درست ہے
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے نمائندوں اور حال ہی میں منعقد ہونے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے متاثرہ طلبا نے اس امتحان کے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔
پی ایم اے ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ پورے ملک میں امتحان ایک ہی دن شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے۔
سیکریٹری جنرل پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ طلبا کا ایم ڈی کیٹ کے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ درست ہے، امتحان دوبارہ شیڈول اور شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان امتحانات سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ لینے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جانی چاہیے اور امتحان کے انعقاد کا ٹھیکا میرٹ پر کسی اچھی ساکھ والی کمپنی کو دیا جائے۔
نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح امتحان میں بد انتظامی ہوئی جس کی وجہ سے ملک بھر میں طلبا کا احتجاج شروع ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کا ٹھیکا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نجی فرم کو دیا گیا۔
ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ مذکورہ کمپنی کو اس طرح کے امتحانات کا کوئی تجربہ نہیں تھا، یہاں تک کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی قوانین کی اس خلاف ورزی کی جانب اشارہ کیا، پھر آن لائن منعقد ہونے والے امتحانات انتظامی مسائل سے دوچار ہوئے اور طلبا کی محنت ضائع گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبا کو شکایت کرنے یا ان کے پیپرز کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی حق نہیں دیا گیا۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مناسب ہوم ورک کے بغیر آن لائن امتحانات کا انعقاد پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کی جانب سے ایک اور غلطی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں طلبا کو ان کی جوابی شیٹوں کی کاربن کاپی فراہم کی جاتی تھی، بعد میں ویب سائٹ پر ایک کلید اپ لوڈ کی جاتی تھی تاکہ طلبا اپنی کارکردگی کا اندازہ لگا سکیں جس کی وجہ سے امیدواروں نے امتحان کے نتائج پر کبھی بحث نہیں کی۔
