چوہان تسیری مرتبہ بھی بے عزت ہو کر کیوں فارغ ہوا؟

https://youtu.be/DA3wYmrdsFo

اپنی بدزبانی اور دشنام طرازی کے لئے بدنام حکومتی ترجمان فیاض الحسن چوہان کو عثمان بزدار نے ایک بار پھر فارغ کردیا ہے اور اس مرتبہ بھی چوہان کو اپنی چھٹی کا پتہ میڈیا کے ذریعے چلا جب وہ ایک کرکٹ میچ کھیلنے میں مصروف تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض الحسن چوہان پر الزام ہے کہ وہ ترجمان پنجاب حکومت ہونے کے ناطے وزیر اعلی عثمان بزدار کی پروجیکشن کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ بزدار کو یہ بھی گلہ تھا کہ چوہان کا زیادہ فوکس غیر سیاسی سرگرمیوں پر تھا اسی لیے انکی فراغت کا نوٹیفکیشن بھی تب جاری کیا گیا جب وہ گورنر ہاؤس میں اپوزیشن اراکین کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ دوستانہ میچ کھیلنے میں مصروف تھے۔ تاہم چوہان نے اپنی فراغت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی ٹیم کا حصہ ہیں، حتمی فیصلہ انہی کیا ہوتا ہے اور اگر انہیں چوتھی مرتبہ بھی حکومت کی ترجمانی کا فریضہ سونپا گیا تو وہ بخوشی یہ ذمہ داری کو قبول کر لیں گے۔
6 اکتوبر کو جب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بدزبان ترجمان چوہان کو تیسری مرتبہ فارغ کیا تو ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ وہ اس قدر فارغ تھے کہ حکومتی ترجمان ہونے کے باوجود انہیں اپنی فراغت کی اطلاع بھی نہیں تھی۔ یعنی ان کی کابینہ میں حیثیت اتنی ہی تھی کہ ترجمانی سے فارغ کرنے سے پہلے کسی نے انہیں اس بارے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
6 اکتوبر کو گورنر ہاؤس میں جاری پارلیمانی کرکٹ میچ کے دوران جب صحافیوں نے چوہان سے سوال کیا کہ کیا انہیں ترجمان پنجاب حکومت کے عہدے سے واقعی ہٹا دیا گیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، وہ وزیر اعلیٰ آفس سے معلوم کر کے جواب دیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جب انہیں عہدے سے ہٹایاگیا تھا تب بھی وہ لاعلم تھے۔ واضح رہے فیاض الحسن چوہان صوبائی وزیر جیل خانہ جات کے عہدے پر برقرار ہیں اور انہیں وزارت اطلاعات سے فارغ کیا گیا ہے۔
راولپنڈی سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے فیاض الحسن چوہان سے تیسری مرتبہ اطلاعات کا قلمدان واپس لیا گیا ہے۔ ان کی حالیہ تقرری 13 اگست 2021 کو کی گئی تھی اور وہ اس مرتبہ مشکل دو مہینے اس عہدے پر برقرار رہ سکے۔ فیاض چوہان کی جگہ معاون خصوصی وزیراعلی برائے اطلاعات حسان خاور کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔ ایوان وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں 13 اگست 2021 کو فیاض الحسن چوہان کو ترجمان حکومت پنجاب مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا، اور کہا گیا کہ حسان خاور بطور ترجمان حکومت پنجاب اور معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے خدمات سر انجام دیں گے۔خیال رہے کہ چوہان مجموعی طور پر تیسری مرتبہ اس عہدے سے فارغ کئے گئے ہیں۔
جب سے پنجاب میں پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا ہے، انتظامی اور کابینہ میں مسلسل تبدیلیاں کی جارہی ہیں، خاص طور پر پنجاب حکومت کے ترجمان کا عہدہ کسی چیلنج سے کم نہیں جس پر مختلف رہنماؤں کو آزمایاجاچکاہے مگر چوہان واحد شخص ہیں جنہیں تیسری بار بھی ہٹادیاگیا۔ خیال رہے کہ چوہان ان چند بد تمیز حکومتی اراکین میں شامل ہیں جو اپنی بد زبانی کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں 4 مارچ 2019 کو انہوں نے ایک بیان میں سخت الفاظ میں بھارتیوں کے بجائے ‘ہندوؤں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کی یہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی تھی جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد 5 مارچ 2019 کو اقلیتی برادری سے متعلق متنازع بیان پر فیاض الحسن چوہان کو مستعفی ہونا پڑا۔
اگست 2020 میں چوہان کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پاکستانی فلم انڈسٹری اور اداکارہ نرگس اور میگھا کے خلاف نازیبا گفتگو کرتے نظر آئے تھے۔ انہوں نے عید فلم جوانی پھر نہیں آنی-2 کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کیا کوئی وکھری جوانی ہے جو سینما گھروں پر آئی ہوئی ہے، کیا یہ انسانیت ہے؟ آدھی ننگی عورتوں کی تصاویر پرنٹ کرکے سینما گھروں کے باہر لگا دی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میری کوشش تھی کہ یہ معاملہ میری وزارتی حدود میں آتا، تو پھر میں نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا اور میگھا کو سال کے 30 نہیں 300 روزے نہ رکھواتا تو آپ مجھے کہتے۔ اس بیان پر اداکارہ نرگس سمیت فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا تو فیاض الحسن چوہان کو معافی مانگنا پڑا۔ بعدازاں اکتوبر میں فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریف خاندان کے ساتھ کشمیری لفظ کو طنزیہ لہجے میں استعمال کیا تھا جس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ اگست 2019 میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران فیاض الحسن نے میزبان کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا تھا اور گالی دی تھی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران میزبان کی جانب سے ان کے پرانے کلپس چلانے پر چوہان میڈیا پر برہم ہوگئے تھے۔جب فیاض الحسن چوہان اپنے سیاسی مخالفین کو نامناسب القابات سے نوازنے لگے تو میزبان نے انہیں ٹوکا جس پر وہ انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلے گے۔
یہی نہیں فیاض الحسن چوہان مائیک نکالتے ہوئے گالیاں دیتے رہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی تاہم بعد میں اس پر بھی انہوں نے معذرت کر لی تھی۔ چوہان کئی مرتبہ صحافیوں سے بھی الجھ چکے ہیں اوران کے لیے قابل اعتراض زبان استعمال کر چکے ہیں۔ جنوری 2019 میں لاہور میں ایک صحافی کے سوال پوچھنے پروہ ان پر برس پڑے اور کہا تھا کہ ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔ اس رویے پر صحافیوں نے کئی دن ان کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد چوہان نے معافی مانگ لی تھی۔ تاہم 5 جولائی 2019 کو ان کی دوبارہ پنجاب کابینہ میں واپسی ہوئی تھی اور انہیں صوبائی وزیر جنگلات بنا دیا گیا تھا بعدازاں دسمبر 2019 کو فیاض الحسن چوہان کو صوبائی وزیر اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا البتہ 2 نومبر 2020 کو ان سے 2 وزاتوں کے قلمدان میں سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں صوبائی وزیر جیل خانہ جات کا عہدہ دیا گیا تھا۔ ان کی جگہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا جو اس سے قبل وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے بھی کام کرچکی تھیں تاہم انہیں بھی اس عہدے سے ہاتھ دھو نے پڑے اور فیاض چوہان کو 13 اگست کو واپس صوبائی ترجمان کا عہدہ دیا گیا تھا جو 6 اکتوبر 2021کو ایک بار پھر واپس لے لیا گیا۔

Back to top button