عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ کیوں؟

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا، صرف پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔ 10 ستمبر 2026 سے پٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 5 ستمبر کو پٹرول 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا، جو 8 ستمبر کو بڑھ کر 358 روپے 77 پیسے، 9 ستمبر کو 364 روپے 35 پیسے اور 10 ستمبر کو مزید اضافے کے بعد 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ یوں صرف پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
اسی عرصے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی مسلسل بڑھتی رہی۔ 5 ستمبر کو ڈیزل 378 روپے 05 پیسے فی لیٹر تھا، جو 8 ستمبر کو 381 روپے 77 پیسے، 9 ستمبر کو 385 روپے 95 پیسے اور 10 ستمبر کو 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا۔ اس طرح پانچ روز میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر لاگت 234 روپے 73 پیسے بنتی ہے، تاہم صارفین سے اس وقت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس حساب سے پٹرول کی قیمت اور اصل لاگت کے درمیان تقریباً 133 روپے فی لیٹر کا فرق بنتا ہے، جس میں لیوی، ٹیکس اور دیگر مارجنز شامل ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر 131 روپے 60 پیسے کی لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 122 روپے 55 پیسے کے لیوی، ٹیکس اور مارجنز عائد ہیں۔ یوں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر عائد مختلف محصولات اور مارجنز بھی صارفین کے لیے قیمتوں کے بوجھ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں پانچ ایرانی ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی میں آٹھ ٹینکروں، دو جنگی جہازوں اور اردن میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز رانی کے لیے ایک نیا ممنوعہ زون قائم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے جو آبنائے ہرمز سے آگے بحیرہ عرب تک پھیل سکتا ہے۔ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی خطے سے ہوتی ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی بڑے تنازع یا جہاز رانی میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے بھی متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر دنیا کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں بھی عالمی قیمتوں، روپے کی قدر، درآمدی لاگت، ٹیکسز، لیوی اور دیگر حکومتی محصولات سمیت متعدد عوامل پٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت طے کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کااعلان
پٹرول کی قیمت میں صرف پانچ روز کے دوران 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافے نے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے نہ صرف نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
عوام کے لیے بنیادی سوال اب یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ مقامی سطح پر عائد ٹیکس، لیوی اور مارجنز کا بوجھ کس حد تک کم کیا جا سکتا ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے عام صارف کو کچھ ریلیف مل سکے۔
