خیبرپختونخوا پولیس تھانوں پر بلندوبالا جال کیوں لگانے لگی؟

 

 

 

 

 

خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر پولیس نے دفاع کا نیا طریقہ اختیار کرلیا، مختلف پولیس مراکز اور چیک پوسٹوں کے سامنے کئی میٹر بلند حفاظتی جال نصب کردیئے گئے ہیں، جبکہ اہلکاروں کو ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والے جیمرز اور جدید آلات کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ پولیس کی یہ حکمت عملی یوکرین کے جنگی علاقوں میں ڈرون حملوں سے بچاؤ کیلئے اختیار کی جانے والی تدابیر سے متاثر ہے۔

پولیس کے مطابق مضبوط دھاگے سے تیار کیے گئے یہ جال مچھلی پکڑنے والے جالوں سے مشابہ ہیں، جنہیں پولیس عمارتوں کے سامنے کنکریٹ کی دیواروں اور دیگر حفاظتی رکاوٹوں کے درمیان اس انداز میں نصب کیا گیا ہے کہ وہ حفاظتی چھت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد حملہ آور ڈرونز کو الجھانا یا ان کے ذریعے گرائے جانے والے مارٹر، دستی بم یا دیگر اشیا کو عمارت تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جاسکے۔

خیبر ضلع کے پولیس افسر وقار کے مطابق ڈرونز اب بازاروں میں باآسانی دستیاب ہیں اور معمولی تبدیلی کے ذریعے ان میں گولہ بارود یا دھماکا خیز مواد گرانے کا نظام نصب کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اہلکاروں کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے اور ڈرون حملوں کے خطرے کو کم کرنے کیلئے حفاظتی جال لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ڈرون حملوں سے بچاؤ کی یہ حکمت عملی دنیا کے دیگر جنگ زدہ علاقوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ یوکرین کے بعض فرنٹ لائن شہروں میں سڑکوں اور اہم مقامات پر ایسے جال نصب کیے گئے ہیں جو ڈرون حملوں کے خلاف حفاظتی حصار کا کام کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں کے متعدد پولیس مراکز پر بھی اب کنکریٹ بلاکس، حفاظتی دیواروں اور جالوں کو دفاع کی اضافی تہہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شورش کے باعث پولیس کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق 2024 سے شدت پسندوں کی جانب سے ڈرونز کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا ہے، جنہیں نہ صرف نگرانی بلکہ حملوں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے ذریعے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا عسکریت پسندوں کیلئے نسبتاً آسان ہوگیا ہے، جس کے باعث کارروائیوں کے دوران خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

پشاور کے ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق صوبے کے تقریباً 30 فیصد پولیس اسٹیشنز اب بھی اپنے ڈرونز سے محروم ہیں، جبکہ دوسری جانب عام مارکیٹ میں ڈرون ٹیکنالوجی کی دستیابی نے سکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کردیئے ہیں۔ ایک اور سینئر پولیس افسر کے مطابق عسکریت پسند ڈرونز کے ذریعے پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں، جس سے ان کے خلاف کارروائی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔

پولیس نے بھی اس نئے خطرے سے نمٹنے کیلئے اپنی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اہلکاروں کیلئے خصوصی تربیتی کورسز کرائے جا رہے ہیں جبکہ فورس کو ڈرونز اور ان کے خلاف استعمال ہونے والے آلات، جن میں ہاتھ سے چلنے والے جیمرز بھی شامل ہیں، فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا پولیس کے یو اے وی یعنی بغیر پائلٹ طیاروں کے ڈویژن نے فورس کی تاریخ میں پہلی بار ڈرون آپریشنز سے متعلق 52 اہلکاروں کو خصوصی تربیت فراہم کی۔

ایک چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکار عامر کے مطابق حفاظتی جالوں اور دیواروں کے استعمال سے ڈرون حملوں اور عمارتوں پر دستی بم پھینکے جانے کے خطرے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے حملوں کے نتیجے میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ سرکاری عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں، تاہم حفاظتی اقدامات میں اضافے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

کیا واقعی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں سستی ہونے والی ہیں؟

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی خطرات اور حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث پولیس اور متعلقہ حکام کو مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ شہریوں کے مطابق پائیدار امن کیلئے نہ صرف پولیس چوکیوں کی سکیورٹی بہتر بنانا ضروری ہے بلکہ ایسے علاقوں میں شدت پسندوں کے خطرے کا مستقل خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے حفاظتی جال، ڈرون جیمرز، تربیت اور جدید نگرانی کے آلات کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی اب سکیورٹی کیلئے ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج کے طور پر سامنے آچکی ہے، جس سے نمٹنے کیلئے روایتی حفاظتی انتظامات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

 

Back to top button