(ن)، (ش) اور (م) لیگ کی باتیں کرنے والے دیکھ لیں ہم اکٹھے ہیں

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جو لوگ (ن)، (ش) اور (م) لیگ کی باتیں کرتے تھے ان کو پیغام مل گیا ہے کہ ہم اکٹھے ہیں۔
لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔اس موقع پر مریم نواز اپنے چاچا اور کزن حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کے لیے احتساب عدالت پہنچیں۔جب کہ ان کے ہمراہ مریم اورنگزیب اور احسن اقبال سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔مریم نواز کی عدالت آمد پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد میں عدالت کے باہر جمع ہوگئی اور ان کی آمد پر نعرے بازی کی۔ مریم نواز نے عدالت میں پہنچنے کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات اور گفتگو بھی کی۔ نیب حکام نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا جہاں احتساب عدالت کے جج نے کیس پر مختصر سماعت کے بعد آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا جس کے بعد مریم نواز کی کمرہ عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔مریم نواز نے اپنے چچا زاد بھائی حمزہ شہباز کو تھپکی بھی دی اور انہیں بکتر بند میں عدالت لائے جانے کی مذمت کی
علاوہ ازیں صحافی کی جانب سے مریم نواز سے سوال کیا گیا کہ حکومت جمہوری قیادت کو بکتر بند گاڑیوں میں لائی ہے جس پر آپ کا کیا مؤقف ہے جس پر انہوں نے کہا کہ انہیں جمہوریت قیادت سے جتنی دہشت ہے اتنی کسی سے نہیں۔غیر رسمی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو لوگ (ن)، (ش) اور (م) لیگ کی باتیں کرتے تھے ان کو پیغام مل گیا ہے کہ ہم اکٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کم ظرف لوگ 30 سال سے یہ باتیں کر رہے ہیں، یہ خاندان اکٹھا ہے اور اکٹھا رہے گا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا قابل مذمت ہے، حکومت جو معیار مقرر کر رہی ہے اس کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
دوران گفتگو صحافی نے سوال کیا کہ کیا اگلا سال الیکشن کا ہے تو اس پر مریم نواز نے جواب دیا کہ انشا اللہ اگلا سال الیکشن کا سال ہے جبکہ گلگت بلتستان کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) ہی جیتے گی۔ مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کے منہ پر ہاتھ پھیر کر نواز شریف کو مخاطب کرنے والے بیان پر کہا کہ یہ سب وہ انتقام ہے جو آپ کو نظر آرہا ہے۔غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انہیں جتنی دہشت جمہوری قیادت سے ہے اور کسی سے نہیں.
