عاصم باجوہ سکینڈل نے عمران کا احتسابی بیانیہ دفن کر دیا


مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہلخانہ کے مبینہ اثاثوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر کہا ہے کہ عاصم باجوہ سکینڈل نے عمران کا احتسابی بیانیہ دفن کر دیا ہے. یہ ایک فرد کا معاملہ ہے’ جس پر الزمات لگے ہیں انہیں اس کا جواب دینا چاہیئے۔ اس میں ریاست، سی پیک یا کسی ادارے کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے.
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے اس معاملے پر کہا کہ ان الزامات کا جواب سازش ہے نہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا کوئی بہانہ ہے اور نہ اس کے درمیان ریاست کو لانا چاہیئے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سی پیک کے بانی نواز شریف جو 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لے کر آئے انہیں اگر ایک اقامے پر نکالنے پر سی پیک کو کچھ نہیں ہوا تو ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے بھی سی پیک کو کچھ نہیں ہوگا۔
نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس دن ان کی حالت خطرے سے باہر ہوگی وہ پہلے دن واپس آجائیں گے۔
اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ عاصم باجوہ پر جو الزامات لگے ہیں یہ اس دور کے الزامات ہیں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو کیا وجہ تھی کہ وہ اپنے ماتحتوں کی نگرانی نہیں کرسکی۔جس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ان کے خلاف جو ‘ثبوت’ سامنے آئے وہ وہ بہت بڑے ہیں انہیں چاہیئے کہ آ کر اس کا دفاع کریں اس پراپنی پوزیشن کو قوم کے سامنے واضح کریں، اگر آپ ٹیکس دہندگان کے پیسے پر سرکاری عہدہ پر ہیں اور کوئی الزام لگتا ہے، اس کے ثبوت پیش کیے جاتے ہیں تو آپ کو قانون کا سامنا کرنے سے کترانا نہیں چاہیئے۔اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قانونی کارروائی کے امکان کے سوال پر رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پارٹی جو کرے گی وہ پارٹی خود فیصلہ کرے گی۔
جج ارشد ملک کی برطرفی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ‘ جو اعتراف انہوں نے کیا وہ انصاف کے چہرے پر دھبہ ہے جسے دھونے کی کوشش کی گئی جو بہت اچھا ہے اب آگے بڑھ کر نواز شریف کا وہ فیصلہ بھی ختم کردیں جو اس کے نتیجے میں سامنے آیا تھا’۔ایک اور سوال کے جواب میں رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ‘عمران خان کہا کرتے تھے کہ چونکہ نواز شریف باہر چلے گئے ہیں اس لیے میرا احتساب کا بیانیہ بہت کمزور ہوگیا ہے پھر کہا کرتے تھے کہ فلاں فلاں کو ضمانت مل گئی اس لیے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہوگیا’۔مریم نواز نے کہا کہ ‘اس پر میں عمران خان اور ان کی حکومت سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ آج جب عاصم سلیم باجوہ صاحب پر ثبوتوں کے ساتھ الزام لگے ہیں تو احتساب کا بیانیہ کس غار میں سو رہا ہے یا وہ کہاں چھپا ہوا ہے، آج احتساب کے بیانیے کو کوئی چیلنج نہیں ہے تو آگے بڑھیں اور عوام کو بتائیں کہ وہ اس میں بھی احتساب پر یقین رکھتے ہیں’۔ایک اور سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھتے ہوئے میں ایک مرتبہ 5 ماہ اور دوسری مرتبہ 6 ماہ کی قید بھگت سکتی ہوں، کال کوٹھری میں رہ سکتی ہوں اور اگر نواز شریف جیل میں موت کے منہ میں پہنچنے کے باوجود قانون کے آگئے سرینڈر کرتے ہیں تو پھر چاہے وہ نواز شریف ہو، مریم نواز، شہباز شریف، عمران خان، عاصم سلیم باجوہ، میر شکیل الرحمٰن، قاضی فائز عیسیٰ یا چاہے سرینا عیسیٰ ہوں سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے موجودہ جج ہوتے ہوئے، نواز شریف 3 مرتبہ کے وزیراعظم ہوتے ہوئے، ان کی بیٹی مریم نواز کے علاوہ سرینا عیسیٰ کوئی عہدہ نہ رکھتے ہوئے قانون کے آگے پیش ہوسکتے ہیں تو پھر کسی کو استثنٰی نہیں ہے قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور برابر ہونا چاہیئے۔ مریم نواز نے کہا کہ اس کیس کے بعد عمران خان کو چاہیئے کہ احتساب کا بیانہ جو ارشد ملک کیس میں ایکسپوز ہوچکا ہے اس کے کفن دفن کا انتطام کرلیں۔
ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں سماعت سے قبل ان کہنا تھا کہ نواز شریف ملک سے دور نہیں رہیں گے، ان کے والد ملک واپس آنے کے لیے بے چین ہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ علاج مکمل ہونے سے قبل وہ واپس آئیں۔
پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھا کس طرح نواز شریف کو سزا ہوئی ۔۔مریم نواز اور نواز شریف قانون سے پیش ہو سکتے ہیں تو وزیر اعظم عمران خان کیوں نہیں ؟ مریم نواز نے کہا کہ اگر احمد نورانی کچھ نکال کر لائے ہیں تو انہیں دھمکیاں نہیں ملنی چاہئیے بلکہ الزامات کا جواب ملنا چاہئیے۔رسیدیں پیش کرنی چاہئیے اور جواب دینا چاہئیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے سی پیک کو کچھ نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا احتساب کا بیانیہ بے نقاب ہو چکا اس کے کفن دفن کا انتظام کر لیں۔عمران خان احتساب کے بیانیے کو اب خیر باد کہہ دیں.
مریم نوازنے مزید کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) میں معلوم ہو گا کہ پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ ہے یا نہیں۔ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی اور انھیں نہیں لگتا کہ نواز شریف اس میں شرکت کرنے سے منع کریں گے۔اپوزیشن جماعتوں کو مل کر حکومت کے خلاف فیصلہ کرنا چاہیے۔ حکومت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘میں نے تو سوچا تھا کہ حکومت اتنا نیچے آنے میں پانچ سال لے گی، لیکن حکومت نے اپنا جو نقصان پانچ سال میں کرنا تھا وہ دو سال میں ہی کر بیٹھی۔’انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اپنی نہیں بلکہ پاکستان بارے سوچنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہے گا اس عمر میں ملک سے دور رہے، میاں صاحب کا علاج چل رہا ہے کرونا کی وجہ وہ بھی تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ نواز شریف کی سرجری ملتوی ہوگئی، میری خواہش ہے نواز شریف اپنا علاج کرائیں پاکستان واپس نہ آئیں، ان کی طبیعت جانتے ہوئے یقین سے کہہ سکتی ہو وہ ملک سے دور نہیں رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پر لگنے والا کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا. ان پر لگنے والے الزامات کھودا پہاڑ نکل چوہا کے مترادف تھے.مریم نواز نےکہا کہ مکافات عمل تو شروع ہونا ہی تھا کیونکہ ہر چیز کی اپنی ٹائمنگز ہیں۔
دوسری طرف مریم نوازکی پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا حکومت کی اصلیت آپ کے سامنے ہے، بیریئر لگا کر مریم نواز کو روکا گیا، کیوں ؟ ایم این ایز اور ایم پی ایز بارش میں کھڑے ہیں، آج عوام کو دبایا جا رہا ہے، آج عوام پر انصاف کے دروازے بند ہیں، پولیس کو کھڑا کر کے عوام کو روکا جا رہا ہے، حکومت ایک خاتون کو برداشت نہیں کرسکتی، عوام کو کیسے کریگی۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا دنیا میں کہیں عدالتوں کے دروازے بند نہیں کیے جاتے، موجودہ حکومت میں ہائیکورٹ کے دروازے بند کر دیئے گئے، وہ دن دور نہیں جب یہ بیریئر نہیں رہیں گے، ملک آج پولیس سٹیٹ بن چکا ہے، ایک خاتون پیشی پر آئی، بھاری فورسز یہاں تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس کے سلسلے میں یکم ستمبر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئیں جہاں 22 ماہ کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ ہوئی۔ قبل ازیں مریم نواز کا کاروان مری سے نکل کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا اور راستے میں مسلم لیگ ن کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی اپنے سفر کے دوران ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے کارکنان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
خیال رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کےجج محمد بشیر چھ جولائی 2018 کو سنایا تھا جس میں نواز شریف کو دس سال جیل کی سزا کے علاوہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا جبکہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو بھی جیل کی سزا سنائی گئی۔ مریم نواز کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں آمد سے قبل عدالت کے باہر اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات سخت کئے گئے تھےاور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 22 ماہ بعد سماعت کی ہے۔احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی اور عدالت نے ستمبر 2018 میں فیصلہ سناتے ہوئے سزائیں معطل کر دی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button