نواز شریف کو وطن واپسی کیلئے گرین سگنل کہاں سے ملا؟

پاکستان مسلم لیگ ن قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اگلے ماہ وطن واپسی کے اعلان نے سیاسی میدان میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے سنہ 2019 میں برطانیہ چلے گئے تھے اور پانامہ ریفرنسز میں عدالت کی طرف سے دی گئی چار ہفتے کی مدت میں وہ واپس نہیں آئے، جس کے بعد ان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔ اور اب انھوں نے تقریباً چار برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب گذشتہ چند برسوں کے دوران ان کی غیر موجودگی میں سیاسی حریف جماعت پی ٹی آئی کے بیانیے کے باعث ان کی پارٹی کی مقبولیت اور ووٹ بینک کو دھچکہ پہنچا ہے، انھیں خود بھی سیاست سے تاحیات نااہلی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے جبکہ ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان اٹک جیل میں قید ہیں۔
واضح رہے کہ اتحادی حکومت کے دور میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک رسک زیرو نہ ہو جائے۔
کیا نواز شریف کی واپسی کے لیے گراؤنڈ تیار کیا جا رہا ہے اور جب وہ اپنے بھائی کے دور حکومت میں وطن نہیں آئے تو اب کہاں سے کیا ضمانت دی گئی ہے؟اس سوال کے جواب میں سنیئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے لیے فضا کافی سازگار ہو چکی ہے۔ موجودہ نگراں وفاقی و صوبائی حکومت ان کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ نہیں رکھتی لہذا اگر وطن واپسی پر انھیں جیل جانا پڑا تو وہ ایک ’سافٹ‘ جیل ہو گی اور ممکن ہے انھیں عبوری ضمانت بھی مل جائے۔‘مجیب الرحمان شامی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کے واپس آنے سے سنہ 2018 کا منظر دوبارہ دہرایا جا رہا ہے ’بس اس مرتبہ کرداروں کا فرق ہے۔‘’آج ان کے حریف عمران خان سلاخوں کے پیچھے ہیں اور مسلم لیگ ن پر اقتدار کے دروازے کھل رہے ہیں جبکہ اس وقت عمران خان پر اقتدار کے دروازے کھلے تھے اور انھیں بے دخل کیا گیا تھا۔‘
نواز کی وطن واپسی پر ضمانت ملنے کے سوال پر انھوں نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’گارنٹی دینا بڑا مشکل ہے لیکن ان کے واپسی کے وقت عدل کے ایوانوں میں ایک بڑی تبدیلی ہو چکی ہو گی، موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جگہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سنبھال لیں گے لہذا ان کے لیے اس سے بہتر فضا ہو نہیں سکتی کیونکہ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ جو جج حضرات ان کے خلاف عناد رکھتے تھے ان کے ہاتھ اب اتنے کھلے نہیں رہیں گے۔‘
صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کا اعلان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نے کیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق رسک ختم ہو گیا ہے۔
نسیم زہرہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کی سیاست میں ایک ’ہیوی ویٹ‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن میں انھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ہی کراؤڈ پلر قرار دیا جاتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاکستان واپس آنے سے یقیناً جماعت اور ملکی سیاست پر اثر پڑے گا۔
تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے سنہ 2018 میں بھی الیکشن سے قبل اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آ کر جب رسک لیا تھا تو اسی نے پنجاب میں پی ایم ایل کو فیصلہ کن اکثریت دلوائی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ ’اب بھی وہ ہی چیز ہے ان کی واپسی یقیناً مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر نہ صرف متحرک کرے گی بلکہ لیول پلئینگ فیلڈ کی جانب بھی مثبت پیش رفت ہو گی۔‘
اگر مسلم لیگ ن کا یہ سیاسی داؤ بھی کامیاب نہ ہوا تو پھر پارٹی کے پاس کیا بچے گا؟تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہر سیاستدان کی خواہش ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس میں سب اہم یہ ہے کہ وہ انتخابی مہم میں کس بیانیے سے جاتے ہیں اور ’وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے پرویز مشرف کے دور کا سیاسی دھچکا برداشت کر لیا تھا تو وہ اب بھی اپنی جماعت کو نکال سکتے ہیں۔ بہرحال پھر بھی فیصلہ عوام کے اختیار میں ہو گا کہ وہ انھیں قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘
سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’سیاستدان کبھی مرتا نہیں ہے کسی ڈکٹیٹر کے برعکس اس کی 10 زندگیاں ہوتی ہے جو وردی جانے سے ختم نہیں ہوتی۔‘وہ رائے دیتے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہو گا۔’اسی نواز شریف کو ملکی سیاسی تاریخ میں سکیورٹی رسک قرار دے کر جلا وطن کیا گیا اور پھر کس نے لندن جا کر ملاقاتیں کی یہ سب عیاں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کی سیاست کی بنیاد ہمیشہ عام آدمی کو ریلیف دینے پر رکھتے ہیں اور ان کی وطن واپسی میں مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔‘
دوسری طرف ماہرِ قانون اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ برہان معظم ملک کہتے ہیں کہ نواز شریف عدالتی حکم پر ملک سے باہر گئے تھے۔ لیکن مقررہ وقت میں واپس نہ آنے پر اُنہیں اشتہاری قرار دیا گیا۔ برہان معظم ملک کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو تمام مقدمات کا اسی طرح سامنا کرنا پڑے گا جیسے کوئی مجرم کرتا ہے۔اُن کے بقول جب نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا ہوئی تھی تو اُنہوں نے اپنی سزا کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ اپیل میں عدالت نے اُنہیں چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دی۔ لیکن وہ چار ہفتوں کے بعد واپس نہیں آئے۔اُن کا کہنا تھا کہ اَب اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو عدالت اُنہیں گرفتار بھی کرا سکتی ہے۔ عدالت اُن سے پوچھ گچھ بھی کر سکتی ہے کہ اُنہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کیوں کی؟برہان معظم ملک کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سزا کے خلاف بطور مجرم اُن کی اپیل زیر سماعت تصور ہو گی اور یہ سماعت وہیں سے شروع ہو گی جہاں سے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔
کیا نواز شریف دوبارہ گرفتار ہو سکتے ہیں؟برہان معظم ملک ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق جب بھی کوئی اشتہاری مجرم پاکستان کی زمین پر اُترتا ہے تو اسے ایئرپورٹ کی حدود سے باہر نکلنے سے قبل گرفتار کر لیا جاتا ہے۔اُن کے بقول اگر نواز شریف کے وکیل اُن کی واپسی سے قبل حفاظتی ضمانت دائر کر دیتے ہیں تو وہ گرفتاری سے بچ سکتے ہیں۔
