نواز شریف کے ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر پر وزیر اعظم کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے لندن کے ہوٹل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کھانا کھانے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو میاں‌نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس منگوا کرصحت کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں.
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ لندن کے ایک ہوٹل میں موجود ہیں۔تصویر میں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف،اسحاق ڈار اور دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز بھی موجود ہیں،چونکہ نواز شریف ضمانت پر رہا ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں لہذا اس تصویر نے سب کو حیران کر دیا ہے تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے میاں نواز شریف کی تصویر کا نوٹس لے لیا ہے۔عمران خان نے نواز شریف کی ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو ٹیلیفون کیا ہے۔عمران خان نے یاسمین راشد سے استفسار کیا کہ باہر جا کر وہ کھانا کھا رہے ہیں،یہ بیمار ہیں یا تندرست؟۔وزیراعظم نے یہ بھی پوچھا کہ نواز شریف کی رپورٹس آئیں یا نہیں؟۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس منگوائیں اور حقائق عوام کے سامنے پیش کئے جائیں.
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی نواز شریف پر تنقید کی تھی۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نواز شریف کی تصویر شئیر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ دیکھئے لندن کے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہونے والی ملاقات کے مناظر۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ کھاؤ پیو بیماری کا علاج انتہائی انہماک سے جاری ہے اور سارے مریض بہتر محسوس کر رہے ہیں۔


دوسری جانب ،شریف فیملی کاکہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ابھی تک متوازن نہیں ہو سکی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت بدستور ناساز ہے اور رپورٹس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا تھا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کی صحت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button