ایم کیو ایم نے فروغ نسیم کے گورنر سندھ بننے کا راستہ روکا

وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کے کوٹے میں زبردستی ڈالے گے وزیر قانون فروغ نسیم کو گورنر سندھ بنانے کی حکومتی تجویز تھی جبکہ ایم کیو ایم فروغ نسیم کو اپنے کھاتے میں شمار ہی نہیں کرتی۔
ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خالد مقبول صدیقی کے استعفے کا مقصد وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو ایم کیو ایم کے کوٹے پر گورنر سندھ بننے سے روکنا ہے۔ اب شاید خالد مقبول صدیقی کے استعفے پر وفاقی حکومت فروغ نسیم کو گورنر سندھ بنانے کی تجویز سے پیچھے ہٹ جائے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت گورنر سندھ عمران اسماعیل کی کارکردگی سے سخت نالاں ہے اور گورنر سندھ کی تبدیلی کی خواہاں ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف عمران اسماعیل کو عہدے سے ہٹانے اورایم کیو ایم کو رام کرنے کیلئے گورنر سندھ کیلئے متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے نام پر غور کیا جا رہا تھا۔ چنانچہ استعفی دینے سے پہلے ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت نے فروغ نسیم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کو گورنر سندھ بنانے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ تاہم حکومت کی طرف سے فروغ نسیم کی گورنر سندھ تعیناتی پر اصرار کرنے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ دے کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم دراصل حکومتی کوٹے میں وزیر قانون ہیں اور اب ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے کابینہ کا حصہ نہ رہتے ہوئے حکومت کے ساتھ چلنے کا دعویٰ کرنا دراصل حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے کیونکہ ایم کیو ایم قطعاً حکومت سے علیحدگی نہیں چاہتی ہے۔ ماضی کے برعکس ایم کیو ایم قیادت اب اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ وہ فوری طورپر دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو گی جب تک حکومت کی طرف سے متحدہ قومی موومنٹ کے مطالبات کے حوالے سے عملی اقدامات نظر نہیں آتے اس وقت تک کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ تاہم خالد مقبول صدیقی کے استعفے سے یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی صورت ایم کیو ایم کی خواہشات کے برعکس فروغ نسیم کو گورنر سندھ لگانے کا رسک نہیں لے گی کیونکہ کپتان کی وفاقی حکومت چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے اگر ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہوتی ہے تو کپتان کا اپنا اقتدار قائم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنی ہچکولے کھاتی حکومت کی کشتی کو کسی مشکل میں انے سے بچانے کیلئے بہر صورت ایم کیو ایم کوراضی کرنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کیلئے کوشاں ہیں جس کیلئے انھوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ٹاسک سونپ دئیے ہیں۔ اور پارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی بد اعتمادی کوختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
واضع رہے کہ فروغ نسیم کو آج کے دور کا شریف الدین پیرزادہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جنرل مشرف کے بھی قریب تھے اور جنرل باجوہ کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کو گورنر بنانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا جارہا تھا کہ جو کردار مشرف دور اور پھر اس کے بعد پی پی پی اور نوازشریف ادوار میں عشرت العباد نے بطور گورنر ادا کیا اب وہ کردار فروغ نسیم جیسے میٹھے اور شاطر شخص سے بہتر کوئی اور ادا نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ عمران اسماعیل کو اگست 2018 میں گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا اور وہ پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کا اور عمران خان کا پچیس سال سے زیادہ پرانا تعلق ہے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب مانے جاتے ہیں۔ تاہم ان سے پارٹی قیادت کو بنیادی شکایت یہ ہے کہ وہ شام کے بعد مخمور ہو جاتے ہیں اور دستیاب نہیں ہوتے۔ دوسری طرف کراچی میں پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اسماعیل پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ہیں، کپتان کے دوست ہیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز ان کے علم میں نہیں ہے۔
