نگراں حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے میں ناکام کیوں؟

بنیادی خسارے اور گردشی قرضے کو آئی ایم ایف کی طے شدہ حدود میں پورا کرنے کی وجہ سے سخت مالی پوزیشن کے تناظر میں وفاقی کابینہ نے صرف 400 یونٹ تک استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کے تحت بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جانے والے جی ایس ٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

ان دنوں پاکستان کے طول و عرض میں بجلی کے بلوں کی صورت میں لگنے والے ’برقی جھٹکوں‘ نے غریب، متوسط اور تنخواہ دار طبقے کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین حرام کر رکھا ہے۔معاشی چیلنجز میں گھرے پاکستان نے جب آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ کر کے معیشت کو سہارا دیا تو پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں اور مختلف ٹیکسز کی مد میں اضافے کی صورت میں اس کی بھاری قیمت عوام کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کے دور میں بجلی کی قیمت میں اوسط 100 گنا تک اضافہ تو ہو ہی چکا تھا اور اب نگران حکومت نے بھی فی یونٹ قیمت کو آتے ہی مزید بڑھا دیا ہے جس کے بعد اگست کے مہینے میں موصول ہونے والے بجلی کے بلوں نے آمنہ سمیت محدود آمدنی رکھنے والے پاکستانی عوام کے چودہ طبق روشن کر دیے ہیں۔

بجلی کے زیادہ بلوں کا مسئلہ صرف گھریلو صارفین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ہر طبقہ اور شعبہ ہی متاثر ہو رہا ہے۔ملک کے طول و عرض سے احتجاج سامنے آنے پر نگراں حکومت نے بجلی کے بھاری بِلوں کے معاملے پرمشاورت اجلاس تو منعقد کئے مگر چار دن گزرنے کے باوجود یہ وعدہ اب تک وفا نہ ہو سکا۔حکومت کے ریلیف دینے کے اعلان کے باوجود اب تک کوئی لائحہ عمل سامنے نہ آ سکا۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ اور حکومت بجلی کے بلوں میں کمی سامنے لانے کے اقدامات سے آگاہ کرنے کی پوزیشن میں کب ہو گی؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئےنگران وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت ریلیف کا کوئی لائحہ عمل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی مگر وزیر اعظم ہر روز اس پر میٹنگ کر رہے ہیں اور ’پوری کوشش ہے کہ عوام پر اس کا بوجھ کم سے کم ڈالا جائے۔ ‘انھوں نے کہا کہ ’مالی ریلیف تو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں ہیں تاہم بلوں کی ادائیگی میں جو بھی آسانی ہو سکتی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جتنا ممکن ہوا وہ کریں گے۔ ایک سے دو روز میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔‘نگران وزیر توانائی کے مطابق ’بجلی کی مزید قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے فی الحال کوئی امکان نہیں ہے لیکن اگر ڈالر میں تبدیلی آتی ہے اور توانائی پیدا کرنے کے ذرائع مہنگے ہوتے ہیں تو یہ ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ ڈالر یا انٹرسٹ ریٹ میں تبدیلی آئی تو اس سے بجلی کی قیمت میں تبدیلی ضرور آئے گی۔‘

ان کے مطابق ’بجلی کی قیمت بڑھنے کی ایک وجہ ماضی کے کئی فیصلے ہیں دوسرا روپے کی قدر میں کمی اور تیسری وجہ ٹیکسز کے باعث بجلی مہنگی ہونا ہے۔‘تاہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہم جتنا دے سکیں عوام کو جلد از جلد ریلیف دیں۔‘دوسری جانببدھ کے روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال ان کے اندازے سے کہیں زیادہ خراب ہے اور فی الحال مالی گنجائش نہ ہونے کے باعث حکومت کسی قسم کی سبسڈی نہیں دے سکتی۔کمیٹی ممبران کی جانب سے ملک کی معاشی صورت حال اور بجلی کے نرخوں پر تشویش کے اظہار کے جواب میں شمشاد اختر نے بتایا کہ ’تیل کے لیے پاکستان دنیا پر انحصار کرتا ہے اور ہمیں بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے پاس’فسکل سپیس‘ (گنجائش) نہیں ہے جس کی وجہ سے سبسڈی نہیں دے سکتے۔‘

نگران وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود اب تک حکومت کوئی بھی اعلان کیوں نہیں کر پائی؟معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا کے مطابق یہ ایک انتہائی مشکل صورت حال ہے ایک طرف آئی ایم ایف کا معاہدہ ہے جس میں رہنا پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے تو دوسری طرف عوام کی مجبوریاں اپنی جگہ ہیں۔ ایسے میں جب مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور بے روزگاری اور غربت دو سالوں میں کہیں بڑھ گئی ہے تو نگران حکومت ان تکالیف کا اندازہ کرتے ہوئے بھی ان حالات میں کچھ کر نہیں سکتی۔‘

Back to top button