پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اوربیٹے علی ریاض کے ریڈوارنٹ جاری

قومی احتساب بیوروکی درخواست پر انٹرپول نے کرپشن کیس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے۔
چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ نیب کی درخواست پر انٹرپول نے ملک ریاض اور علی ریاض کے وارنٹ جاری کیے ہیں، دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائےگا۔
دوسری جانب ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ کے مطابق ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال نیب نے 89 ارب روپے کی ریکوری کی، جبکہ اس وقت منی لانڈرنگ سے متعلق 37 ہائی پروفائل کیسز پر کارروائی جاری ہے۔منی لانڈرنگ کے 4 کیسز عدالتوں سے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اس وقت نیب کے پاس 289 ریفرنسز، 205 انویسٹی گیشنز اور 745 انکوائریز زیر التوا ہیں۔
رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 8 ہزار 563 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 8 ہزار 214 نمٹا دی گئیں جبکہ 475 پر کارروائی جاری ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف ہاؤسنگ پراجیکٹس پر تحقیقات جاری ہیں۔ سندھ میں ملیر، کورنگی، کلفٹن اور گل احمد ملز سے اراضی واگزار کرائی گئی ہے جبکہ پنجاب میں 9 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین واپس حاصل کی گئی ہے۔ واگزار زمین کی نگرانی کے لیے صوبائی سطح پر ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔
ملک ریاض کی عمر 72 برس ہے اور وہ بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ہیں جبکہ ان کے 48 سالہ بیٹے علی ریاض کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ملک ریاض اور ان کی کمپنی گزشتہ چند برسوں سے مختلف قانونی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ القادر ٹرسٹ کیس میں مفرور بھی قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ نیب نے جنوری 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ان کی حوالگی کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔ ان پر ماضی میں زمین کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق کئی الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
