UAEمیں مقیم پاکستانیوں کی جبری بے دخلی شروع؟

پاکستان سے قرض کی واپسی کے بعد متحدہ عرب امارات نے ملک میں مقیم پاکستانیوں کی جبری ملک بدری شروع کر دی۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی خبروں نے نہ صرف عوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے بلکہ بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی میں بھی بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ سوشل میڈیاپر غیر مصدقہ افواہین گرم ہیں کہ امارات سے پاکستانیوں کو بڑے پیمانے پر نکالا جا رہا ہے، اور اس کے پیچھے سیاسی وجوہات کارفرما ہیں۔ تاہم جب اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور حقیقت پسندانہ نظر آتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ درست ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات نے اپنی امیگریشن پالیسیوں میں نمایاں سختی کی ہے۔ خاص طور پر کووڈ-19 کے بعد معاشی بحالی، لیبر مارکیٹ کی تنظیم نو اور غیر قانونی ورک فورس کے خاتمے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں مختلف ممالک کے شہریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے خلاف بھی کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں، مگر انہیں کسی ایک ملک کے خلاف مخصوص مہم قرار دینا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اعداد و شمار کے مطابق 2023ء سے 2025ء کے دوران تقریباً 10 ہزار پاکستانی شہری امارات سے واپس بھیجے گئے، جن میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جو ویزا کی مدت سے تجاوز، غیر قانونی ملازمت، یا دیگر امیگریشن خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے۔ صرف 2025ء میں ہی تقریباً 6 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قوانین پر عملدرآمد سخت ضرور ہوا ہے، مگر یہ عمل عمومی نوعیت کا ہے۔

دوسری جانب، اس معاملے کو خطے کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال سے جوڑنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر جانبدار اور مصالحتی پالیسی نے عالمی سطح پر مثبت تاثر پیدا کیا۔ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر دیکھا گیا، تاہم بعض خلیجی حلقوں میں اس پالیسی کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا۔ اسی پس منظر میں کچھ اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا ہوئی، جسے بعض حلقوں نے پاکستانیوں کے خلاف کارروائیوں سے جوڑ دیا۔تاہم زمینی حقائق اس بیانیے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ امارات میں پاکستانی کمیونٹی بدستور ایک مضبوط اور مؤثر حیثیت رکھتی ہے۔ اندازوں کے مطابق 15 سے 20 لاکھ پاکستانی وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں محنت کشوں سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز اور کاروباری افراد شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق معاشی اعتبار سے بھی یو اے ای میں مقیم کمیونٹی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کو ترسیلات زر بھیجنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ یو اے ای سےسالانہ تقریباً 5.5 سے 6.5 ارب ڈالر امارات سے پاکستان آتے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر پاکستانی ورک فورس میں 10 سے 20 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں سالانہ 600 ملین سے 1.2 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض ڈیپورٹ ہونے والے افراد کو اپنے مالی معاملات نمٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بینک اکاؤنٹس، کاروبار، جائیداد اور دیگر اثاثوں کی واپسی ایک طویل قانونی عمل سے گزرتی ہے، جس میں وقت اور وسائل دونوں درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کامعاملہ صرف امیگریشن تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی عوام پر گہرے سماجی اور معاشی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ماہرین کے بقول موجودہ صورتحال کی بنیاد پر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ امارات میں پاکستانیوں کی صورتحال کو محض سیاسی رنگ دینا حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔ اصل مسئلہ امیگریشن قوانین کی سختی، لیبر مارکیٹ کی تبدیلی اور قانونی تقاضوں کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے۔ البتہ اس کے اثرات پاکستان کی معیشت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی زندگیوں پر ضرور مرتب ہو رہے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔

Back to top button