حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے دوججز کے تبادلے سے پیچھے کیسے ہٹی؟

اسلام آباد میں عدالتی اور سیاسی حلقوں کی نظریں ان دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے مجوزہ تبادلوں پر مرکوز ہیں، جہاں ایک اہم پیشرفت نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بظاہر ایک معمول کی انتظامی کارروائی سمجھے جانے والے اس اقدام نے اس وقت غیر متوقع رخ اختیار کیا جب حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی مداخلت کے باعث دو ججز کے تبادلوں کو فی الحال روک دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے نام مجوزہ تبادلوں کی فہرست سے وقتی طور پر نکال دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت کے اندر سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ تمام اتحادی جماعتیں، بشمول پیپلز پارٹی، اس معاملے پر متفق ہو جائیں گی۔ تاہم عملی صورتحال اس کے برعکس نکلی، جس نے ججز کے تبادلے بارے حکومتی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

دوسری جانب، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دیگر ججزجسٹس محسن کیانی، جسٹس بابر اور جسٹس ثمنکے تبادلوں کی منظوری دے دی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمل مکمل طور پر رکا نہیں بلکہ جزوی طور پر جاری ہے۔ اس سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ عدالتی نظام میں تقرریوں اور تبادلوں کا عمل بیک وقت قانونی اور سیاسی عوامل سے متاثر ہو رہا ہے۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد اس معاملے کو دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان موجود ہے۔ ایسے میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ جن ججز کے تبادلے فی الحال روکے گئے ہیں، ان پر مستقبل قریب میں دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف عدالتی خودمختاری اور شفافیت کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہی ہے بلکہ حکومتی اتحاد کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے معاملات میں سیاسی اثر و رسوخ کا تاثر عوامی اعتماد پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جس سے ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔یوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں کا یہ معاملہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا حساس موضوع بن چکا ہے جو آئندہ دنوں میں مزید سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

Back to top button